Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
غذائی قلت دور کرنے کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد

غذائی قلت دور کرنے کیلئے قومی کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی، 19 مئی (ہ س)۔ ہندوستان میں چھپی ہوئی بھوک اور غذائی قلت کی کمی کو دور کرنے کے لئے منگل کو انڈیا ہیبی ٹیٹ سنٹر میں فوڈ انڈسٹری کے اہم رہنماوں کی ایک قومی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا اہتمام ٹیکنو سروکے ذریعے چل رہے ملرز فار نیوٹریشن نے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز (سی آئی آئی) ،سنٹر آف ایکسی لینس ان فوڈ اینڈ ایگریکلچر (سی آئی آئی فیس) کے اشتراک سے کیا۔

اس کانفرنس نے حکومت، فوڈ انڈسٹری، ملرز، نیوٹریشنسٹ اورترقیاتی سیکٹر کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ لایا تاکہ اہم خوراک کی بڑے پیمانے پر غذائیت کے لیے ایک عملی روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

میٹنگ میں کھانے کے تیل، چاول اور گندم کے آٹے جیسے زمروں میں فورٹیفائیڈ فوڈز کو بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے صنعت کے وسیع تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ صنعتی شراکت داری کو مضبوط بنانے، صارفین کی بیداری اور اعتماد میں اضافہ، خوردہ اور تجارتی سطحوں پر اپنانے کو بڑھانے اور غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے پائیدار مارکیٹ پر مبنی حل تیار کرنے پر بات چیت کی گئی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، منوجیت اندرا، ایشیا پروگرام لیڈر اور سینئر پریکٹس لیڈر، ملرز فار نیوٹریشن، ٹیکنو سرونے کہا کہ ہندوستان نے اہم غذاو¿ں کی مضبوطی کو آگے بڑھانے میں اہم پیش رفت کی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر چھپی ہوئی بھوک سے نمٹنے کے لیے پورے فوڈ انڈسٹری کے ماحولیاتی نظام میں گہرے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس صنعت، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گی۔

کانفرنس نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ فوڈ فورٹیفیکیشن صرف پالیسی پر مبنی اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اختراعات، صارفین کی شمولیت اور مضبوط ماحولیاتی شراکت داری کے ذریعے ایک وسیع صنعتی تحریک کے طور پر تیار کیا جانا چاہیے۔ شرکاءنے ملرز کے لیے تکنیکی معاونت بڑھانے، فورٹیفائیڈ فوڈز کی دستیابی کو بہتر بنانے، کوالٹی اسٹینڈرڈز پر بہتر انڈسٹری کوآرڈینیشن قائم کرنے اور صارفین کا اعتماد بڑھانے کی ضرورت پر بھی بات کی۔

اس پہل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، ابھیشیک شکلا، کنٹری پروگرام منیجر، ملرز فار نیوٹریشن انڈیا نے کہا کہ فورٹیفیکیشن ہندوستان میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں ایک تبدیلی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فورٹیفائیڈ اسٹیپل فوڈز کو انڈسٹری پارٹنرشپ، مارکیٹ پر مبنی اپروچ اور صارفین کی بیداری میں اضافہ کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے۔

کانفرنس میں کئی سینئر حکومتی نمائندوں اور صنعت کے رہنماو¿ں نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر راکیش کمار، ڈائریکٹر (سائنس اینڈ اسٹینڈرڈز)، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی)، سراج اے چودھری، سابق شریک چیئرمین، سی آئی آئی نیشنل نیوٹریشن کمیٹی، ودیا شنکر ستیہ کمار، ایگری بزنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ، اڈانی ولمار لِمِیٹڈ،جے ٹی چاری، منیجنگ ڈائریکٹر، مدر ڈیری فروٹ اینڈ ویجیٹیبلز اور بھارتارشبھا دشارے، قومی صدر، اکشے پاترا فاونڈیشن شامل ہیں۔

بات چیت میں غذائیت کو مین سٹریم پیکڈ فوڈ پراڈکٹس میں ضم کرنے اور بڑے پیمانے پر تجارتی طور پر قابل عمل فورٹیفیکیشن کے حل کو نافذ کرنے میں نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی گئی ۔

یہ کانفرنس مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے، فورٹیفیکیشن ایکسیلنس کو فروغ دینے، فوڈ پروسیسرز اور ملرز کے لیے صلاحیت سازی کی کوششوں کی حمایت اور ملک بھر میں فورٹیفائیڈ اسٹیپل فوڈز کو بڑھانے کے مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu