
ستنا، 19 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع میں امرپاٹن روڈ پر واقع ودیا شری سالوینٹ پلانٹ (تیل مل) میں پیر کی دیر رات نامعلوم وجوہات کی بنا پر آگ لگ گئی، جس کی زد میں آنے سے ایک ملازم زندہ جلا گیا، جبکہ دوسرا شدید طور پر جھلس گیا۔ حادثے کے بعد مشتعل لوگوں نے معاوضے کے مطالبے کو لے کر ہائی وے پر چکہ جام کر دیا۔
علاقے کے سی ایس پی ڈی پی سنگھ چوہان نے بتایا کہ امرپاٹن روڈ پر بھٹنوارا کے پاس واقع ودیا شری سالوینٹ پلانٹ میں پیر کی رات نامعلوم وجوہات کی بنا پر آگ لگ گئی۔ پلانٹ میں دھان کی بھوسی سے رائس بران آئل بنایا جاتا تھا۔ اس لیے آگ دھان کی بھوسی اور تیل کے رابطے میں آکر اتنی تیزی سے پھیلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا احاطہ شعلوں میں گھِر گیا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت موقع پر 4 سے 5 ملازمین موجود تھے، جن میں سے کچھ تو باہر کی طرف بھاگ نکلے، مگر تگھرا کے ساکن مشین آپریٹر دلاور سنگھ پریہار اور منو کیوٹ اندر ہی پھنس گئے۔ آگ اتنی بھیانک تھی کہ کئی کلومیٹر دور سے اس کے شعلے نظر آرہے تھے۔ اس دوران آتشزدگی کی خبر ملتے ہی پولیس ٹیم کے ساتھ نگر نگم کی فائر بریگیڈ گاڑیاں موقع پر پہنچیں، جن کی مدد سے بچاو کی کوششیں شروع کی گئیں۔ نگر نگم کے فائر فائٹرز نے تقریباً چار گھنٹے تک جدوجہد کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا۔
تقریباً ڈھائی گھنٹے کی مشقت کے بعد اندر پھنسے ایک ملازم منو کیوٹ کو باہر نکال کر ایمبولینس سے فوری طور پر ضلع اسپتال روانہ کیا گیا، مگر دلاور کو بچایا نہیں جا سکا۔ سرچنگ میں نوجوان کی پوری طرح جل چکی باڈی کی باقیات ہی ہاتھ لگیں۔ سالوینٹ پلانٹ میں آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی تک پتہ نہیں چل پایا ہے۔ اس دوران واقعے کی خبر ملتے ہی سی ایس پی کے ساتھ ایس ڈی ایم سٹی راہل سلاڈیا، اچہرا ایس ڈی ایم سومیش دوویدی، کوتوالی ٹی آئی راویندر دوویدی، کولگواں ٹی آئی سدیپ سونی، سول لائن ٹی آئی یوگیندر سنگھ سمیت نگر نگم کے فائر آفیسر اور بڑی تعداد میں پولیس کے جوان موقع پر پہنچ کر صورتحال سنبھالنے میں لگ گئے تھے۔
سی ایس پی ڈی پی سنگھ چوہان نے بتایا کہ پوری طرح آگ پر قابو پانے اور فیکٹری احاطے کی تپیش کم ہونے کے بعد متعلقہ ماہرین کے ساتھ باریکی سے معائنہ کیا جائے گا، تو وہیں زخمی ملازم اور دیگر لوگوں سے پوچھ گچھ ہوگی، جس کے بعد ہی صورتحال واضح ہو پائے گی۔
اس دوران آگ میں جھلس کر جان گوانے والے آپریٹر دلاور سنگھ کے اہل خانہ اور گاوں والے بھی موقع پر پہنچ گئے، جنہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ستنا-امرپاٹن روڈ پر جام لگا دیا۔ معاوضے کے لیے کئی دور کی بات چیت کے بعد 15 لاکھ روپے پلانٹ مالک اور آخری رسومات کے لیے انتظامیہ کی طرف سے 25000 کی مدد کے یقین دہانی کے بعد صبح 3.30 بجے چکہ جام ختم ہوا۔ بھیانک آگ کی زد میں آئی رائس مل کے مالک ستنا کے رہائشی سوربھ جین ہیں، جن سے کرائے پر لے کر یوپی کی راجدھانی لکھنو کے ساکن ویریندر پردھان اسے چلا رہے تھے۔ یہاں پر دھان کی بھوسی سے تیل بنانے کا کام کیا جا رہا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

