
کولکاتا، 19 مئی (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتالمیں ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے معاملہ کی سماعت کے دوران منگل کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو ایک اہم ہدایت جاری کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اسپتال کے سیمینار ہال سمیت وہ تمام مقامات جنہیں تحقیقات کے لیے سیل کرنے کی ضرورت ہے فوری طور پر سیل کیا جائے۔ سماعت کے دوران جسٹس شمپا سرکار اور تیرتھنکر گھوش کی ڈویژن بنچ نے سی بی آئی سے پوچھا کہ کیا آر جی کراسپتال کی کرائم سین کی جگہ کھلی ہوئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کرائم سین کو محفوظ کرنا ضروری ہے۔
غور طلب ہے کہ اگست 2024 میں آر جی کراسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری کے بعداس کا قتل کر دیا گیا تھا۔ عدالت پہلے ہی مجرم سنجے رائے کو عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔ تاہم متاثرہ کے اہل خانہ نے تحقیقاتی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
سماعت کے دوران سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ سیمینار ہال سیل ہے۔ تاہم متاثرہ کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ اسپتال کی عمارت کی ساتویں منزل پر واقع اس وقت کے پرنسپل سندیپ گھوش کا دفتر کھلا رہا۔ عدالت نے سی بی آئی سے پوچھا کہ کیا اسے جانچ کے مفاد میں دوسرے علاقوں کو سیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور کیا کسی دوسرے علاقے کو سیل کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح طور پر کہا کہ آر جی کرمعاملہ سے متعلق کرائم سین کو سیل کر کے محفوظ کیا جائے۔ کیس کی اگلی سماعت جمعرات کو ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ کلکتہ ہائی کورٹ کی تین الگ الگ بنچوں نے پہلے ہی اس کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ 12 مئی کو، جسٹس راج شیکھر منتھا اور جسٹس رائے چٹرجی کی ڈویژن بنچ نے جلد سماعت کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے خود کو الگ کر لیا۔ اس کے بعد چیف جسٹس سوجے پال کی سربراہی والی بنچ نے ہدایت دی کہ متاثرہ کے خاندان کی طرف سے دائر تمام درخواستوں بشمول جائے وقوعہ کے معائنہ کی مانگ کی سماعت ایک نئی بنچ کے ذریعہ کی جائے۔ اس کے مطابق، کیس اب جسٹس شمپا سرکار اور تیرتھنکر گھوش پر مشتمل بنچ کے سامنے زیر التوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

