
اندور، 19 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں کرائم برانچ پولیس کی ٹیم نے منگل کو سپر کوریڈور پر ناکہ بندی کر کے ایک کار سے ایک کلو ایم ڈی ڈرگس کے ساتھ پانچ ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ ضبط شدہ ڈرگس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت تقریباً ایک کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دیسی کٹا اور زندہ کارتوس بھی ضبط کیے گئے ہیں۔
ایڈیشنل پولیس کمشنر راجیش کمار سنگھ نے معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ قابلِ اعتماد ذرائع سے ملنے والی اطلاع کی بنیاد پر کرائم برانچ کی ٹیم نے منگل کی صبح سپر کوریڈور پر ناکہ بندی کی۔ اسی دوران کالے رنگ کی اسکارپیو کار اور دو بائیک وہاں پہنچیں۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن ملزمین بھاگنے لگے۔ بھاگنے کے دوران اسکارپیو بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی، جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے بتایا کہ کرائم برانچ کی ٹیم نے کار کو ضبط کر کے پانچ ملزمین کو گرفتار کیا۔ ان میں جھالاواڑ کے ساکن نویں سولنکی (25)، اور شنکر سنگھ (33)، اجین کے ساکن وکرم سنگھ (31)، نریندر سنگھ (26) اور اندور کی سلیکان سٹی کے ساکن گوبند شرما (29) شامل ہیں۔ تلاشی کے دوران کار سے ایک کلو ایم ڈی ڈرگس، دیسی کٹا اور ایک زندہ کارتوس برآمد ہوا۔ پولیس نے ڈرگس، دو بائیک، اسکارپیو، ہتھیار اور کارتوس سمیت کل ایک کروڑ 21 لاکھ 20 ہزار روپے کا مال ضبط کیا ہے۔
ایڈیشنل پولیس کمشنر سنگھ نے بتایا کہ ملزمین کو ریمانڈ پر لے کر سختی سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ پولیس ڈرگس سپلائی نیٹ ورک کی بیک ٹریسنگ کر کے اس کے پورے لنک کو توڑنے کی کوشش کرے گی۔ ساتھ ہی ملزمین کے پرانے مجرمانہ ریکارڈ اور دیگر معلومات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ برآمد شدہ اسکارپیو کس کی ہے اور اس پورے معاملے میں اس کا کیا کردار ہے، اس کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
ابتدائی پوچھ گچھ میں پتہ چلا ہے کہ ملزم نوین سولنکی اور گوبند سیلون میں کام کرتے ہیں اور ریپیڈو بھی چلاتے ہیں، جبکہ باقی ملزمین کھیتی کسانی کا کام کرتے ہیں۔ فی الحال پولیس یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ ملزمین اتنی بڑی مقدار میں ڈرگس کہاں سے لائے تھے اور اسے کہاں سپلائی کرنے جا رہے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

