



وزیراعظم مودی کا دورۂ اٹلی، روم سے شیئر کیں تصاویر، 'ہندوستان-مڈل ایسٹ-یورپ اقتصادی راہداری' گفتگو کا خاص مرکز رہے گی
روم، 20 مئی (ہ س)۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی منگل کو پانچ ممالک کے دورے کے آخری مرحلے پر اٹلی کے دارالحکومت روم پہنچے۔ آج وطن واپس روانہ ہونے سے پہلے وزیراعظم مودی اطالوی صدر سرجیو میٹاریلا سے خیر سگالی ملاقات کریں گے اور اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کریں گے۔ اس کے علاوہ دیگر اعلیٰ سطحی سفارتی پروگراموں میں بھی ان کی شرکت رہے گی۔ وزیراعظم مودی کے مطابق، دورۂ اٹلی کا اہم مقصد 'ہندوستان-مڈل ایسٹ-یورپ اقتصادی راہداری' پر گفتگو کرنا بھی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے تقریباً سات گھنٹے پہلے اپنے ''ایکس'' ہینڈل پر روم پہنچنے کی اطلاع اور چار یادگار تصاویر شیئر کی ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے، ''میں اٹلی کے شہر روم پہنچ گیا ہوں۔ میں صدر سرجیو میٹاریلا اور وزیراعظم جارجیا میلونی سے ملوں گا اور ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کروں گا۔ اس دورے کا بنیادی زور ہندوستان اور اٹلی کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنے پر ہوگا، جس میں 'ہندوستان-مڈل ایسٹ-یورپ اقتصادی راہداری' (آئی ایم ای سی) پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مشترکہ اسٹریٹجک ایکشن پلان 29-2025 کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ میں اقوامِ متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کروں گا۔ اس سے کثیر جہتی اور عالمی غذائی تحفظ کے تئیں ہندوستان کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔''
وزیراعظم نریندر مودی کے اٹلی کے دارالحکومت پہنچنے پر وزیراعظم جارجیا میلونی نے ''ایکس'' پر لکھا، ''روم میں آپ کا استقبال ہے، میرے دوست!'' قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تیزی سے مضبوط ہو رہی اسٹریٹجک شراکت داری کے درمیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم مودی جون 2024 میں جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے اٹلی گئے تھے۔
وزیراعظم مودی کی اٹلی کی اعلیٰ قیادت سے اس راہداری پر گفتگو ہونی ہے۔ یہ راہداری کئی لحاظ سے بہت خاص ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ ایک پرعزم ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ ہے۔ اس کا مقصد سمندری، ریل اور سڑک نیٹ ورک کے ذریعے ہندوستان، مڈل ایسٹ اور یورپ کے درمیان تجارت اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینا ہے۔ اس کا اعلان ستمبر 2023 میں نئی دہلی میں منعقدہ جی20 سربراہی اجلاس میں کیا گیا تھا۔
اس راہداری کو دو اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا ہے مشرقی راہداری۔ یہ ہندوستان کی بندرگاہوں کو سمندری راستے سے مڈل ایسٹ کے ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب) سے جوڑتا ہے۔ شمالی راہداری ریل نیٹ ورک کے ذریعے سعودی عرب اور جارڈن سے ہوتے ہوئے اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ تک جائے گی، جہاں سے سمندر کے راستے اسے یورپی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔ اس پہل میں ہندوستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، امریکہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسرائیل شامل ہیں۔ یہ راہداری صرف مال برداری تک محدود نہیں رہے گی۔ اس میں انٹرنیٹ اور ڈیٹا کنیکٹیویٹی کے لیے ہائی اسپیڈ سب میرین کیبل بھی شامل ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اس نئے ذریعے سے ہندوستان اور یورپ کے درمیان تجارت میں لگنے والے وقت میں کافی کمی آنے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

