
امیٹھی، 20 مئی (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے ایک روزہ دورے پر امیٹھی پہنچنے سے قبل سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ ضلع کے مختلف مقامات پر کانگریس اور ایم پی کشوری لال شرما کو نشانہ بناتے ہوئے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔
پوسٹرز پر لکھا تھا، "دو سال کشوری لال، تم نے کیا کیا؟" پوسٹروں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایم پی بننے کے بعد صرف ایک اسکول بس دی گئی، وہ بھی کانگریس لیڈر کے اسکول کو اور ایک ایمبولینس دی گئی جو ان کے ٹرسٹ کے زیر انتظام اسپتال میں لگائی گئی۔
ایک اور پوسٹر میں ایم پی کشوری لال شرما کے دو سال کے کام کا سابق ایم پی اسمرتی ایرانی کے پانچ برسوں کی مدت سے موازنہ کیا گیا ہے۔ پوسٹر میں اسمرتی ایرانی کے دور میں امیٹھی میں کئے گئے مختلف ترقیاتیپروجیکٹوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
یہ پوسٹر امیٹھی کانگریس کے دفتر، بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن، منشی گنج کے سنجے گاندھی اسپتال اور کلکٹریٹ کمپلیکس سمیت کئی اہم مقامات پر لگائے گئے ہیں۔ پوسٹر وار نے ضلع میں سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔
اس سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) امیٹھی کے ضلع جنرل سکریٹری وشو مشرا نے ایک اہم بیان دیا۔ بی جے پی لیڈر نے الزام لگایا کہ ایم پی فنڈز کانگریس کارکنوں میں تقسیم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشوری لال شرما اور گاندھی خاندان ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں اور امیٹھی میں ایم پی فنڈز کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔
وشو مشرا نے کہا کہ کانگریس لیڈروں کی درخواست پر ایم پی فنڈ سے کانگریس لیڈر کے اسکول کے لیے ایک بس اور اسپتال کو ایمبولینس فراہم کی گئی۔ انہوں نے پوسٹروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی امیٹھی میں پوسٹر لگائے وہ شکریہ کا مستحق ہے۔ انہوں نے سابق ایم پی اسمرتی ایرانی کے کام کا موازنہ موجودہ ایم پی کشوری لال شرما کے کام سے کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو کام کانگریس خاندان 70 سال میں امیٹھی میں نہیں کرسکا، وہ اسمرتی ایرانی نے پانچ برسوں میں کر دکھایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

