
تیماردارپر ڈاکٹر پر مبینہ طور پر حملہ کا الزام، ڈاکٹر کو لگاۓ گۓ آٹھ ٹانکےسرینگر، 23 مئی (ہ س)۔ ضلع اسپتال پلوامہ میں تعینات ایک ڈاکٹر کے سر پر اس وقت چوٹیں آئیں جب اس پر اسپتال احاطے کے اندر ایک تیماردارکے ذریعہ مبینہ طور پر حملہ کیا گیا، جس سے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر طبی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق زخمی ڈاکٹر، جس کی شناخت ڈاکٹر عمر خان کے نام سے ہوئی، پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں مریضوں کا علاج کررہے تھے۔اس دوران ایک تیماردار نے اسکے ساتھ جھگڑا کیا اس واقعے میں جھگڑے کے دوران ایک سیکیورٹی گارڈ بھی زخمی ہوا۔جبکہ ڈاکٹر بھی زخمی ہوا اور اسکے سر پر چوٹ آنے کے بعد اسے آٹھ ٹانکے لگاۓ گۓ ہیں۔ضلع ہسپتال پلوامہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالغنی نے بتایا کہ حملہ اس وقت ہوا جب ایک تیماردارنے ڈاکٹر کو فوری طور پر ایک مریض کا معائنہ کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی حالانکہ ڈاکٹر نے اپنے ڈیوٹی کے اوقات مکمل کر لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمر خان نے مریضوں کے شدید رش کی وجہ سے اپنی مقررہ شفٹ سے تقریباً ایک گھنٹہ اضافی کام جاری رکھا اور اٹینڈنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود کسی دوسرے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ڈاکٹر عبدالغنی نے بتایا کہ ڈاکٹر کے سمجھانے کے باوجود، اٹینڈنٹ غصے میں آگیا، اس نے ڈاکٹر کو دھکا دیا اور وہاں پر موجود بینچ کا استعمال کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا۔ بینچ کا لوہے کا حصہ ڈاکٹر کے ماتھے پر لگا جس سے ڈاکٹر کو گہری چوٹ لگی۔ اسپتال کے حکام نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر خان کے سر میں زخم آیا اور ان کا علاج کرنا پڑا، اس دوران ڈاکٹروں نے ان کی پیشانی پر آٹھ ٹانکے لگائے۔ حکام نے مزید کہا کہ جھڑپ کے دوران ایک سیکورٹی گارڈ جس نے مداخلت کرنے اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی وہ بھی زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ڈاکٹر عبدالغنی نے کہا کہ ہم نے باضابطہ پولیس شکایت درج کرائی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حملہ آور کی شناخت کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ دریں اثنا ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حملے کو انتہائی پریشان کن اور ناقابل قبول قرار دیا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے خلاف تشدد کے بار بار واقعات ہسپتالوں کے اندر خوف کی فضا پیدا کر رہے ہیں اور طبی پیشہ ور افراد کے حوصلے کو متاثر کر رہے ہیں جو مریضوں کی خدمت کے لیے بہت زیادہ دباؤ میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمر خان اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے رہے تھے جب ان پر مبینہ طور پر اسپتال کے اندر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جان بچانے اور مریضوں کے علاج کے لیے خود کو وقف کر دیتے ہیں۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ صحت کے اداروں میں تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام پر زور دیا کہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے ہسپتالوں میں سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت پرزوردیا۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir

