
تہران،23مئی (ہ س)۔پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکی ایرانی مذاکرات کے جاری رہنے کے دوران ایک باخبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ قطر کی ایک مذاکراتی ٹیم امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت تہران پہنچی ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور حل طلب مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کی جا سکے۔رائٹرز کے مطابق ذریعے نے بتایا کہ کہ ایک قطری مذاکراتی ٹیم جمعہ کو تہران پہنچی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹیم نے امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت سفر کیا ہے اور وہ ایک ایسے حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو جنگ کا خاتمہ کرے اور ایران کے ساتھ حل طلب مسائل کو حل کرے۔
جمعہ کے روز ایران میں قطری ٹیم کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان ان مذاکرات میں بنیادی چینل ہے اور اس نے شاندار کام کیا ہے۔روبیو نے یہ بھی کہا کہ واضح طور پر دیگر ممالک کے بھی مفادات ہیں، خاص طور پر خلیجی ملکوں کے جو ان واقعات کے مرکز میں واقع ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی صورتحال ہے۔ ہم ان سب کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملے میں جس بنیادی ملک کے ساتھ ہم نے کام کیا ہے وہ پاکستان ہے اور یہ معاملہ اب بھی اسی طرح ہے۔دریں اثنا اسلام آباد میں ایک سفارتی ذریعے نے وضاحت کی کہ پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر جمعہ کو تہران روانہ ہوں گے۔ دوسری جانب " العربیہ " کے ذرائع نے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ پاکستانی انٹیلی جنس کے سربراہ عاصم ملک بھی تہران روانہ ہوئے ہیں۔
ایک سینئر ایرانی ذریعے نے جمعرات کو رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے لیکن فاصلوں کو کم کیا گیا ہے۔ ایران میں افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول اب بھی حل طلب نکات میں شامل ہیں۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے کچھ پیش رفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مثبت اشارے موجود ہیں، میں ضرورت سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا، اس لیے ہم دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے۔28 فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ میں ابھی تک ایک کمزور جنگ بندی قائم ہے۔ کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند رکھنے کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

