Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ایل جی نے پگا ویلی میں بھارت کے پہلے جیوتھرمل پاور پروجیکٹ کے قیام کی منظوری دی

ایل جی نے پگا ویلی میں بھارت کے پہلے جیوتھرمل پاور پروجیکٹ کے قیام کی منظوری دی

ایل جی نے پگا ویلی میں بھارت کے پہلے جیوتھرمل پاور پروجیکٹ کے قیام کی منظوری دی

لداخ، 23 مئی (ہ س)۔

لداخ میں صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے پگا ویلی میں بھارت کے پہلے جیوتھرمل پاور پروجیکٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن کی جانب سے سطح سمندر سے 14 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر قائم کیا جائے گا۔حکام کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے اس منصوبے کے لیے او این جی سی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں مزید پانچ برس کی توسیع کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد زمین کے اندر موجود حرارتی توانائی کو تجارتی سطح پر استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست بجلی پیدا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ لداخ انتظامیہ، لداخ آٹونومس ہل ڈیولپمنٹ کونسل لیہہ اور او این جی سی انرجی سینٹر کے درمیان 6 فروری 2021 کو سہ فریقی معاہدہ طے پایا تھا، جو 5 فروری 2026 کو ختم ہو گیا تھا۔ سخت موسمی حالات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے باعث کام میں تاخیر ہوئی، جس کے بعداو این جی سی نے معاہدے میں توسیع کی درخواست کی تھی۔توسیعی معاہدے کے تحت او این جی سی پگا ویلی میں ایک میگاواٹ صلاحیت کا پائلٹ جیوتھرمل پاور پلانٹ قائم کرے گی اور لداخ میں جیوتھرمل وسائل کے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ بھی تیار کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق جیوتھرمل توانائی زمین کے اندر موجود حرارت سے حاصل کی جاتی ہے اور اسے کم کاربن اخراج والی قابلِ تجدید توانائی تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت میں اب تک کسی بڑے تجارتی جیوتھرمل پاور پلانٹ کا قیام عمل میں نہیں آیا، اس لیے لداخ کا یہ منصوبہ ملک کا پہلا ایسا منصوبہ ہوگا۔حکام نے بتایا کہ او این جی سی انرجی سینٹر 2026 کے ورکنگ سیزن کے دوران موجودہ جیوتھرمل کنویں کو ایک ہزار میٹر گہرائی تک لے جائے گا جبکہ اگلے مرحلے میں اسی گہرائی کا ایک اور کنواں کھودا جائے گا۔ پائلٹ پلانٹ کی جانچ، تجزیہ اور کمیشننگ 2026-27 کے مالی سال میں متوقع ہے۔منصوبے کے دوسرے مرحلے میں چوماتھانگ علاقے میں جیوتھرمل سروے اور تحقیقات کی جائیں گی، جس کے بعد مزید ڈرلنگ اور بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈی پی آر تیار کی جائے گی۔پگا ویلی اور چوماتھانگ خطے ہمالیائی جیوتھرمل بیلٹ میں واقع ہیں، جہاں زیرِ زمین شدید حرارت پائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق پگا ویلی میں پہلے سے کھودے گئے ایک آزمائشی کنویں سے تقریباً 400 میٹر گہرائی پر 200 ڈگری سیلسیس سے زائد درجہ حرارت کی بھاپ اور گرم سیال مادے حاصل ہوئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے کہا کہ پگا ویلی کا جیوتھرمل منصوبہ لداخ کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے اور یہ بھارت کے صاف توانائی کے سفر میں ایک تاریخی قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے لداخ کی توانائی خود کفالت مضبوط ہوگی، کاربن اخراج میں کمی آئے گی اور خطے کو ماحول دوست بنانے میں مدد ملے گی۔حکام کے مطابق او این جی سی نے 2025 میں شدید سرد موسم اور مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود 405 میٹر گہرائی تک پہلا جیوتھرمل کنواں کامیابی سے کھودا، جو لداخ کا اب تک کا سب سے گہرا جیوتھرمل کنواں ہے۔ تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ زیرِ زمین درجہ حرارت 240 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہے، جو بجلی پیدا کرنے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ مجوزہ پائلٹ پلانٹ تقریباً 200 ڈگری سیلسیس کے ٹربائن درجہ حرارت پر ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu