
نئی دہلی، 23 مئی (ہ س)۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت گریڈ 9-10 کے لیے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے 'تین زبانی فارمولے' کو سپریم کورٹ میں قانونی چیلنج کے درمیان ماہرین تعلیم اور ماہرین لسانیات نے اسے ہندوستانی زبانوں کے تحفظ کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا ہے۔
معروف ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں کی ذہنی نشوونما اور ملکی ثقافت کے تحفظ کے لیے جماعت 9-10 میں ہندوستانی زبانوں کی لازمی تعلیم ضروری ہے۔
ماہرین لسانیات کے مطابق، سی بی ایس ای کا یہ اقدام قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے، جس میں کثیر لسانی اور مادری زبان پر مبنی تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بچے اپنی مانوس زبان میں زیادہ مو ¿ثر طریقے سے سیکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک میں محدود اشرافیہ یا غیر ملکی زبان کی حمایت کرنے والے گروہوں کی خواہشات کی وجہ سے لاکھوں عام طلباء کو اپنی زبانوں کے مطالعے سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
پروفیسر سری نواس ورکھیڑی نے ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ہندوستانی زبانیں صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک کے ثقافتی شعور اور علمی روایت کی بنیاد بھی ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 (این ای پی) ہندوستانی زبانوں کو تعلیم اور تحقیق کے مرکز میں قائم کرنے کی جانب ایک تاریخی اقدام ہے، اور سی بی ایس ای کا سہ لسانی ماڈل اسی دور اندیشانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے ۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن طلباء نے جماعت 8 تک ہندوستانی زبان کی تعلیم حاصل کی ہے انہیں سیکنڈری سطح (9 اور 10ویں جماعت) پر اس لسانی تسلسل کو جاری رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ مادری زبانوں اور ہندوستانی زبانوں میں تعلیم طلباء کی فکری نشوونما، خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیت کو تقویت دیتی ہے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینے کا مطلب کسی غیر ملکی زبان کی مخالفت نہیں ہے۔ ہندوستان ہمیشہ عالمی علم کے لیے کھلا رہا ہے، لیکن کوئی بھی قوم اپنی لسانی جڑوں کو کمزور کر کے زیادہ دیر تک خود انحصاری اور خود اعتماد نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے ہندوستانی زبانوں کے مطالعہ کے پانچ بڑے فوائد کا ذکر کیا۔ ان میں فکری اور تخلیقی ترقی، تعلیمی مساوات، ثقافتی تحفظ، قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا، اور طلباء کے مفادات میں پائیداری شامل ہیں۔
تعلیم اور ثقافت سے وابستہ اسکالرز نے اب اس مسئلے پر ملک گیر مثبت عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سی بی ایس ای گریڈ 9-10 کے طلباء کے لیے 'سہ لسانی فارمولے' کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس کے تحت طلباء کو تین زبانیں پڑھنی ہوں گی۔ اس قاعدے کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی ( پی آئی ایل) دائر کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ
