Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
صدر ٹرمپ کی ایران پر گفتگو کے دوران وائٹ ہاوس کے پاس فائرنگ، سیکریٹ سروس نے مشتبہ شخص کو مار گرایا

صدر ٹرمپ کی ایران پر گفتگو کے دوران وائٹ ہاوس کے پاس فائرنگ، سیکریٹ سروس نے مشتبہ شخص کو مار گرایا

واشنگٹن، 24 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاوس کے پاس ہفتہ کی شام ہوئی فائرنگ سے پورا علاقہ دہل گیا۔ بتایا گیا ہے کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران معاہدے پر کچھ لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ فائرنگ کے بعد سیکریٹ سروس کے ایجنٹوں نے پورے علاقے کو گھیر لیا۔ سیکورٹی کے پیشِ نظر کچھ وقت کے لیے وائٹ ہاوس کو بند کر دیا گیا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیشِ نظر وائٹ ہاوس کی کوریج کرنے والے میڈیا اہلکاروں کو فوری طور پر بریفنگ روم میں جانے کا حکم دیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ میں دو لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ سیکریٹ سروس ایجنٹوں کی فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک مشتبہ شخص نے کچھ دیر بعد دم توڑ دیا۔

سی بی ایس نیوز، اے بی سی نیوز اور سی این این چینل کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاوس کے باہر سیکریٹ سروس کے چیک پوائنٹ کے حکام نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد زخمی مشتبہ شخص کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی موت ہو گئی۔ فائرنگ میں ایک راہگیر بھی زخمی ہو گیا۔ سیکریٹ سروس کے کسی بھی ایجنٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ سیکریٹ سروس کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاوس میں ہی موجود تھے۔

جانچ افسران کے مطابق، مارے گئے مشتبہ شخص کی شناخت 21 سالہ ناصر بیسٹ کے طور پر ہوئی ہے۔ بیسٹ کا جولائی 2025 میں بھی سیکریٹ سروس کے ساتھ آمنا سامنا ہو چکا ہے۔ تب اس نے وائٹ ہاوس میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔ اسے گرفتار کر کے نفسیاتی وارڈ میں بھیج دیا گیا تھا۔ یہ فائرنگ وائٹ ہاوس کے باہر 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو این ڈبلیو پر آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ کے پاس ہوئی۔ اس دوران تقریباً 15 سے 30 گولیاں چلائی گئیں۔ وائٹ ہاوس میں موجود صحافیوں کے مطابق انہیں مشرقی وقت کے مطابق تقریباً 6 بجے وائٹ ہاوس احاطے کی طرف سے گولی چلنے جیسی آواز سنائی دی۔ اس کے بعد سیکریٹ سروس ایجنٹ انہیں اندر لے گئے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک وائٹ ہاوس بند رہا۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے پہلے بتایا تھا کہ شام چار بجے تک صدر ٹرمپ وائٹ ہاوس میں ہی تھے۔ اس کے بعد کچھ حکام نے تصدیق کی کہ صدر واقعے کے وقت بھی اپنی سرکاری رہائش گاہ پر موجود تھے۔ احاطے میں موجود صحافی ایما نکولسن کہتی ہیں کہ ہم ریکارڈنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ تبھی انہیں وائٹ ہاوس کے پاس کئی گولیوں کی آواز سنائی دی۔ وہ فوری طور پر زمین پر جھک گئیں۔ اس کے بعد وائٹ ہاوس کو بند کر دیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد میڈیا کو وائٹ ہاوس کے نارتھ لان میں واپس آنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، مشتبہ افراد نے سیکریٹ سروس کے ایجنٹوں کو نشانہ بنایا لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ سیکریٹ سروس کے ایجنٹوں نے بھی بھرپور جواب دیا۔ ایجنٹوں کو بھی گولی چلانی پڑی۔ یو ایس سیکریٹ سروس کے ترجمان اینتھنی گوگلیلمی نے کہا کہ ایجنسی نے مشتبہ افراد کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے ایکس پر کہا کہ اطلاع ملتے ہی موقع پر ہمارے افسران پہنچ گئے۔

سیکریٹ سروس اور ایف بی آئی نے ایکس پر کہا کہ ہفتہ کی شام مبینہ طور پر گولیوں کی آواز سنائی دینے کے بعد وائٹ ہاوس کے نارتھ لان کو خالی کروا لیا گیا۔ یہاں موجود تمام صحافیوں کو بریفنگ روم لے جایا گیا۔ نارتھ لین میں گولی کی آواز سنائی دینے پر صحافیوں کا کیا ردِعمل تھا، اس پر رپورٹر سیلینا وانگ کہتی ہیں، ہم سب لوگ فوری طور پر چھپ گئے۔ فائرنگ بند ہونے پر دوڑ کر وائٹ ہاوس کے پریس بریفنگ روم میں چلے گئے۔

یہ واقعہ وائٹ ہاوس کے صحافیوں کے ڈنر کے ایک مہینے سے بھی کم وقت کے بعد ہوا ہے۔ تب بھی گولیاں چلی تھیں اور صحافیوں کے ساتھ حکام کو میزوں کے نیچے چھپنا پڑا تھا۔ سیکریٹ سروس کے ایجنٹ صدر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر لے گئے تھے۔ ویڈیو فوٹیج کے مطابق فائرنگ کا مشتبہ شخص کول ٹامس ایلن ہاتھ میں شاٹ گن لیے ایک سیکورٹی چوکی سے تیزی سے بھاگا اور اپنا پیچھا کرنے والے سیکریٹ سروس ایجنٹوں پر فائرنگ کی۔ اس پر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام لگا ہے۔ یہ واقعہ وائٹ ہاوس کراسپونڈنٹس ڈنر کے دوران واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں ہوا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu