
واشنگٹن/تہران، 24 مئی (ہ س)۔ مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، اردن، مصر، ترکیہ اور بحرین کے رہنماوں اور حکام کے ساتھ فون پر بات چیت کی۔ اس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر راضی ہو گیا ہے۔ ہرمز جلد کھلے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا ثالث ملک آخری مسودہ تیار کر رہا ہے۔ یہ کام پورا ہونے کے بعد امن معاہدے کا اعلان کیا جائے گا۔
الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے اس کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو سے بھی فون پر بات چیت کی۔ انہیں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، اردن، مصر، ترکیہ اور بحرین کے رہنماؤں کے ساتھ ہوئی گفتگو کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ یہ معاہدہ ابھی امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں اور کئی دیگر ممالک کے ذریعے حتمی شکل دیے جانے پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے آخری پہلوؤں اور تفصیلات پر ابھی تبادلۂ خیال چل رہا ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔ اس دوران، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کا ملک دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد بہت جلد امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل کے مذاکرات کی ميزبانی کر سکتا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے فون پر بات چیت کے بعد کہا کہ انقرہ اس گفتگو میں ہوئی پیش رفت سے خوش ہے۔ اب لگتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بلاروک ٹوک آمد و رفت یقینی ہو سکے گی۔ مصر کے صدارتی دفتر نے علیحدہ بیان میں تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ اس سفارتی پہل کا فائدہ اٹھائیں اور کسی معاہدے تک پہنچیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ سفارتی کوششیں ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تیز ہوئی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہوتے ہی امریکہ پوری طاقت سے ایران پر حملہ کرے گا۔ اس کے بعد عرب ممالک کے کہنے پر انہوں نے حملہ ٹال دیا تھا۔
اس سب کے باوجود تہران کو امریکہ پر ابھی بھی بھروسہ نہیں ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس کی بندرگاہوں سے فوجی ناکہ بندی نہیں ہٹائی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تازہ ترین امن معاہدے میں ہرمز کو کھولنے اور غیر ملکی بینکوں میں جمع ایران کے کچھ اثاثوں کو بحال کرنے کا معاملہ شامل ہے۔
ایران نے ٹرمپ کے اس بیان پر اعتراض کیا ہے کہ امن تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔ ایرانی حکومت نے ہفتے کی شام کہا کہ یہ بیحد اہم آبی گزرگاہ ہے۔ جنگ سے پہلے یہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا تھا۔ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے کہا ہے کہ ممکنہ معاہدے کی صورت میں بھی آبنائے ہرمز ایران کے ہی کنٹرول میں رہے گا۔
فارس نے کہا کہ ایران نے جہازوں کی آمد و رفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے باوجود اس کا کسی بھی طرح سے یہ مطلب نہیں ہے کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال کی طرح پوری طرح سے آزادانہ آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

