Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ایران سے معاہدے کیلئے ٹرمپ کی خطے کے رہنماوں سے مشاورت

ایران سے معاہدے کیلئے ٹرمپ کی خطے کے رہنماوں سے مشاورت

واشنگٹن،24مئی (ہ س)۔بھرپور سفارتی سرگرمیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے متعدد رہنماو¿ں کے ساتھ علاقائی رابطوں کے درمیان امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جو لگ بھگ تین ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

ذرائع نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے رہنماو ¿ں کے ساتھ انتہائی مثبت گفتگو کی ہے۔ ویب سائٹ ایکسیوس نے واضح کیا کہ ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، ترکیہ اور پاکستان کے رہنماو ¿ں کے ساتھ ایک مشترکہ رابطہ کیا جہاں ان میں سے متعدد رہنماو ¿ں نے ان پر زور دیا کہ وہ تہران کے ساتھ معاہدے کی طرف بڑھیں اور دوبارہ فوجی کشیدگی کی طرف لوٹنے سے گریز کریں۔ویب سائٹ نے ایک باخبر امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ایران جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے بہت قریب ہیں اور اشارہ کیا کہ باقی ماندہ اختلافات اس وقت صرف کچھ تکنیکی اور سیاسی نکات کی الفاظ کی ترتیب پر مرکوز ہیں۔ لیکن عہدیدار نے اسی وقت اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹرمپ نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور واضح کیا کہ امریکی صدر اب بھی سامنے موجود اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ فوجی حملے شروع کرنا بھی شامل ہے۔

ٹرمپ نے اس سے قبل اپنے بیانات میں کہا تھا کہ معاہدے تک پہنچنے یا دوبارہ جنگ کی طرف لوٹنے کے امکانات برابر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ انہوں نے یہ کہا کہ امریکہ ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔ویب سائٹ " ایکسیوس" کے مطابق توقع ہے کہ ٹرمپ مذاکرات کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ایرانی فائل پر ہنگامی اجلاسوں کے لیے واشنگٹن طلب کر لیا گیا ہے۔

امریکی سرگرمیوں کے متوازی پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر واشنگٹن اور تہران کے درمیان نقطہ نظر کو قریب لانے کے لیے پاکستان اور قطر کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد تہران سے روانہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان نے حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ نیا مسودہ جس کا ٹرمپ جائزہ لے رہے ہیں وہ حالیہ ایرانی پاکستانی مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ باخبر ذرائع نے ایک مفاہمتی یادداشت کی تیاری کے بارے میں بات کی ہے جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کا مرحلہ وار دوبارہ کھولا جانا، امریکی محاصرے کا خاتمہ اور منجمد ایرانی فنڈز کی واگزاری شامل ہے۔

مثبت ماحول کے باوجود اب بھی بنیادی معاملات حل طلب ہیں جن میں سب سے نمایاں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیاں ہٹانے کا طریقہ کار اور آبنائے ہرمز میں مکمل جہاز رانی کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ ایک ایرانی ذرائع نے العربیہ کو تصدیق کی تھی کہ تہران جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ واشنگٹن سے اسی طرح کی سنجیدگی دکھانے اور منجمد فنڈز اور تیل کی پابندیوں کے بارے میں واضح ضمانتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ العربیہ کو ایک اعلیٰ عہدے دار نے یہ بھی بتایا کہ ایک معاہدے کا مسودہ درحقیقت تیار ہے لیکن وہ اب بھی دونوں فریقوں کی حتمی منظوری کا منتظر ہے۔جنگ جاری ہے، تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں طویل مدتی خلل کے خدشات کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ پر دباو ¿ بڑھ رہا ہے۔ اسی دوران یہ پیش رفت اہم ہے۔ آبنائے ہرمز اختلافات کے نمایاں ترین نکات میں سے ایک ہے کیونکہ عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ یہاں سے گزرتا ہے۔واشنگٹن یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس یا پابندی کے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھولا جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے آنے والے گھنٹے یہ طے کرنے میں فیصلہ کن ہو سکتے ہیں کہ آیا یہ خطہ جنگ روکنے والے ایک تاریخی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے یا فوجی کشیدگی کے ایک نئے دور کی طرف داخل ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu