Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
اندور میں پانی کا بحران شدید ہوا، پانی کے لیے سڑکوں پر لوگ اترے، کانگریس کا چکہ جام مظاہرہ

اندور میں پانی کا بحران شدید ہوا، پانی کے لیے سڑکوں پر لوگ اترے، کانگریس کا چکہ جام مظاہرہ

اندور، 24 مئی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش میں پڑ رہی شدید گرمی کے درمیان ملک کے سب سے صاف ستھرے شہر اندور میں پانی کا بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ شہر کے کئی وارڈوں کی کالونیاں اور محلے ان دنوں شدید آبی قلت سے جوجھ رہے ہیں۔ حالات اتنے خراب ہیں کہ ٹینکر پہنچتے ہی پانی بھرنے کے لیے لوگوں کا ہجوم امڈ پڑ رہا ہے۔ نگر نگم ٹریکٹر-ٹینکروں کے ذریعے پانی سپلائی کر رہا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی مانگ کے سامنے یہ انتظام نا کافی ثابت ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں میئر کا کہنا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال سے واقف ہیں اور کنٹرول روم سے ہر گھر تک پانی پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔

اس درمیان پانی کے بحران سے پریشان لوگوں نے اتوار کے روز شہر کے الگ الگ حصوں میں سڑک پر اتر کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کانگریس رہنماوں اور مقامی باشندوں نے پالدا اور سکھلیا میں چکہ جام کر کے انتظامیہ کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ پالدا چوراہے پر کانگریس کونسلر کنال سولنکی کی قیادت میں بڑی تعداد میں وارڈ-75 اور وارڈ-64 کے رہائشیوں نے چکہ جام کیا۔ مظاہرین نے باقاعدہ پانی کی فراہمی، مناسب ٹینکر انتظام اور نرمدا لائن سے پانی کی سپلائی کا مطالبہ اٹھایا۔ لوگوں کا الزام تھا کہ کئی علاقوں میں چار چار دنوں سے پانی نہیں آیا ہے۔ مجبوری میں لوگوں کو مہنگے داموں پر پانی خریدنا پڑ رہا ہے یا دور دور سے پانی لانا پڑ رہا ہے۔

مظاہرے کے دوران کنال سولنکی نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افسران موقع پر نہیں پہنچیں گے اور مسئلے کا حل نہیں کریں گے، تب تک وہ پانی نہیں پیئیں گے۔ کونسلر نے پانی کے بحران کو لے کر رکن اسمبلی مدھو ورما پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگ طویل عرصے سے پانی کے مسئلے سے پریشان رہے ہیں، لیکن ذمہ دار عوامی نمائندے اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی کالونیوں میں اب تک نرمدا لائن نہیں پہنچی ہے اور نگر نگم سے مناسب ٹینکر بھی فراہم نہیں کرائے جا رہے، جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دین دیال اپادھیائے چوراہا واقع سکھلیا زون-5 دفتر پر بھی کانگریس رہنماوں اور مقامی رہائشیوں نے مظاہرہ کیا۔ کونسلر راجو بھدوریا کی قیادت میں ہوئے احتجاجی مظاہرے میں وارڈ-27 کے بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ علاقے میں گزشتہ 12 سالوں سے کانگریس رہنما ونود ببو یادو کے ذریعے مفت پانی تقسیم کیا جا رہا تھا، لیکن گزشتہ دو دنوں سے پانی کی سپلائی بند کر دی گئی ہے۔ اس سے علاقے میں پانی کا بحران مزید گہرا گیا ہے۔ غصے میں آئے رہائشیوں اور کانگریس کارکنوں نے میئر اور نگر نگم انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرے کے دوران لوگوں نے ''رگھوپتی راگھو راجا رام'' گا کر انوکھے انداز میں احتجاج درج کرایا۔

کانگریس رہنما دولت پٹیل نے الزام لگایا کہ نگر نگم صرف کاغذوں میں پانی کی سپلائی کے دعوے کر رہا ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے کئی علاقوں میں لوگ بوند بوند پانی کے لیے پریشان ہیں۔

حزبِ اختلاف رہنما چنٹوا چوکسی نے بتایا کہ افسران سے یقین دہانی ملنے کے بعد مظاہرہ ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر علاقے میں پانی کا مسئلہ آگے بھی برقرار رہا، تو دوبارہ تحریک چلائی جائے گی۔ فی الحال انتظامیہ نے علاقے کے لیے 8 پانی کے ٹینکر فراہم کرنے کی منظوری دی ہے، جس کے بعد مظاہرہ ختم کر دیا گیا۔ مظاہرے کے دوران چوکسی نے نگر نگم کمشنر کشِتج سنگھل کو فون کیا اور ان کی بات چیت کانگریس کونسلر کنال سولنکی سے کروائی۔ اس بات چیت میں علاقے میں پانی کی فراہمی، ٹینکر کے انتظام اور سپلائی سسٹم کو لے کر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

چکہ جام کی وجہ سے کئی راستوں پر طویل ٹریفک جام لگ گیا۔ سٹی بسوں میں سفر کر رہے مسافر تقریباً ایک گھنٹے تک جام میں پھنسے رہے۔ اسپتال، ہاسٹل اور گھر جانے والے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ مظاہرے کے دوران جب ایک ایمبولینس وہاں پہنچی تو مظاہرین نے فوری طور پر راستہ خالی کر کے اسے نکلنے دیا۔

اے سی پی وجے چودھری نے بتایا کہ پانی کے بحران کو لے کر لوگ سڑک پر بیٹھ کر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم موقع پر موجود ہے اور مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہیں نگر نگم کے افسران نے مظاہرین سے بات چیت کی کوشش کی، لیکن رہائشی افسران کو موقع پر بلانے کے مطالبے پر اڑے رہے۔ وہیں، پالدا میں ہوئے چکہ جام کے دوران ایک تصویر بھی موضوعِ بحث بنی رہی۔ مظاہرے کے وقت پولیس افسران نے سڑک خالی کرانے اور تحریک ختم کرانے کی کوشش کی۔ اسی دوران کونسلر کنال سولنکی نے اے سی پی کے سامنے دندوت پرنام کر دیا۔ اس واقعے کی تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

پانی کے بحران کو لے کر کانگریس اس سے پہلے شہر کے تمام 22 زونل دفاتر پر مظاہرہ کر چکی ہے۔ ہفتے کے روز بھی بڑی تعداد میں لوگ ''پانی دو… پانی دو…'' کے نعرے لگاتے ہوئے رکن اسمبلی رمیش میندولا کے گھر تک پہنچ گئے تھے۔ شدید گرمی کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے پانی کے بحران نے اب شہر میں سیاسی اور سماجی دونوں سطح پر بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔

اندور کے میئر پشیامتر بھارگو نے پانی کے بحران کے مسئلے پر کہا کہ، ''پوری رات کنٹرول روم میں بیٹھ کر صورتحال پر نظر رکھنا اور ہر گھر تک پہنچنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ مسئلہ گرمی کے دنوں میں آتا رہتا ہے۔ میری اندور کے عوام سے گزارش ہے کہ تھری۔ون ایپ کے ذریعے کنٹرول روم کے نمبر سے کونسلر، انجینئر کو آپ ضرور اپنی شکایت بتائیں اور جتنا ضروری ہو، اتنا پانی لیں اور اس کا صحیح استعمال کریں۔''

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu