
بیڑ، ممبئی ، 24 مئی (ہ س)۔ مہاراشٹر میں فضائی دباؤ بڑھنے اور ابر آلود موسم کے باعث ریاست کے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت میں کمی شروع ہو گئی ہے۔ ریاست پر فضائی دباؤ بڑھ کر 1010 ہیکٹوپاسکل تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید گرمی سے کسی حد تک راحت ملی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اس ہفتے فضائی دباؤ میں تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں کمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مانسون کی آمد کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہو رہی ہے اور مانسون کے تیزی سے آگے بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔فی الحال مانسون نے انڈمان سمندر اور سری لنکا کے نصف حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ بحیرہ عرب میں سازگار موسمی تبدیلیوں کے باعث اس کے مقررہ وقت سے پہلے ہی پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بحرالکاہل میں اب تک ایل نینو کا اثر شروع نہیں ہوا، اس لیے رواں سال مانسون پر اس کے منفی اثرات کا خطرہ نہیں ہے۔موسمی تبدیلیوں کا براہ راست اثر مراٹھواڑہ خطے پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بیڑ، عثمان آباد ، لاتور اور پربھنی اضلاع میں آج 5 سے 10 ملی میٹر بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔بیڑ ضلع میں شمال مغربی سمت سے 19 سے 23 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ آسمان جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔بیڑ میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم 27 ڈگری سیلسیس رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ضلع میں ہوا میں نمی کا تناسب 31 سے 35 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کے باعث موسم میں کچھ حد تک حبس محسوس ہو سکتی ہے۔ پورے مراٹھواڑہ خطے میں ناندیڑ ضلع میں سب سے زیادہ 41 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ دعثمان آباد میں درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے۔دریں اثنا، کونکن ساحلی علاقے میں جنوب مغربی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں، جس سے وہاں مانسون سے قبل ہونے والی بارش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے

