
نئی دہلی، 24 مئی (ہ س)۔ دہلی کے لال قلعہ احاطے میں منعقدہ قبائلی کانفرنس میں شرکت کرنے والے مختلف ریاستوں کے قبائلی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے چھتیس گڑھ کے بستر علاقے میں نکسل ازم کے کمزور ہونے کو نئی امید کی شروعات قرار دیا۔
بلیرام نیتام بستر کے کونڈا گاوں کی قبائلی برادری کے صدر ہیں۔ نکسل ازم کے خاتمے اور اس کے اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اس کے خاتمے سے صحت کی سہولیات میں اضافہ ہوگا۔ تعلیم میں بھی بہتری آئے گی۔ اسکول کھلیں گے اور وزیر داخلہ نے وعدہ کیا ہے کہ بستر ڈویژن میں وہ تمام سہولیات ہوں گی جن کی اس خطے میں کمی ہے۔
کانکیر، بستر ڈویژن سے گریجویٹ انیشا کوٹھاری ایک تعلیم یافتہ خاتون کے طور پر روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع کو دیکھتی ہیں۔ تاہم وہ ترقی کے نام پر جنگلات کی کٹائی سے متفق نہیں ہیں۔ جب ان سے تبدیلی مذہب کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ وہاں تبدیلی مذہب سب سے زیادہ ہے، لیکن موجودہ حکومت کی کوششوں نے اسے کم کر دیا ہے۔ انیشا کہتی ہیں کہ مذہب تبدیل کرنے والے اب واپس آ رہے ہیں۔
انہی مسائل پر کئی شرکاءسے انٹرویو بھی کیے گئے۔ ان کی باتوںنے قبائلی برادریوں کی حالت زار کی کہانی بیان کی ہے، جو دہائیوں کے تشدد اور خوف سے متائثرہیں۔ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور روزگار جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم یہ طبقہ اب امید کے ساتھ حکومت کی طرف دیکھ رہا ہے۔
اجتماع میں شرکت کرنے والے نوجوانوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ بستر کے قبائلی نوجوان اب بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ تعلیم، کھیل اور روزگار کے ذریعے اپنی شناخت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ نمائندوں نے نہ صرف سیکورٹی آپریشنز بلکہ مقامی ثقافت، پانی، جنگل اور زمین کے حقوق اور باوقار ترقی کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق بستر میں دیرپا امن تب ہی ممکن ہوگا جب ترقی کے ثمرات آخری فرد تک پہنچیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

