
کولکاتہ، 24 مئی (ہ س)۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اتوار کو سوشل میڈیا پر لائیو آئیں اور بی جے پی حکومت پر ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابات کے بعد کے تشدد اور انتظامی کارروائی کے حوالے سے سنگین الزامات لگائے۔ اپنے خطاب میں، انہوں نے کہا کہ بنگال میں 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد سے مسلسل خوف، دباو¿ اور سیاسی انتقام کا ماحول بنا ہوا ہے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ نہ صرف انہوں نے بلکہ پورے بنگال کے لوگوں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی نتائج کے بعد کئی جگہ ترنمول کانگریس کے کارکنوں اور حامیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو قتل کیا گیا، بہت سے لوگ خوف اور ذہنی دباو ¿ میں زندگی گزار رہے ہیں اور کچھ کو خودکشی تک کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ پنچایت سطح سے لے کر میونسپل کارپوریشن تک ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ انتظامی مداخلت خاص طور پر کولکاتہ میونسپل کارپوریشن اور دیگر شہری اداروں کے کام کاج میں عام ہے۔ ممتا نے الزام لگایا کہ منتخب نمائندوں کو صحیح طریقے سے کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے اور سیاسی وجوہات کی بناء پر کئی پروجیکٹوں کو روک دیا گیا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے اقتدار میں ہیں اور جانتی ہیں کہ انتظامی کام کیا ہوتا ہے اور پارٹی کا کام کیا ہوتا ہے۔
فلتا اسمبلی سیٹ پر دوبارہ انتخابات اور اس کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انتخابی عمل پر بھی سوال اٹھایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

