
بھوپال/گوالیار، 04 جولائی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع میں ایک ریٹائرڈ خاتون ہیلتھ ورکر سے 1.58 کروڑ روپے کی ڈیجیٹل اریسٹ ٹھگی کے معاملے میں سائبر پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے مرینا کے پورسا سے دو چچازاد بھائیوں کو گرفتار کیا ہے۔ جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس گروہ کے تار بین الاقوامی چائنیز نیٹ ورک سے جڑے ہیں، جو ٹھگی کی رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر کے بیرون ملک بھیجتے تھے۔ سائبر پولیس کے مطابق دونوں چچازاد بھائیوں کی گرفتاری جمعہ کی رات ہوئی۔ ٹھگی کا یہ سنسنی خیز معاملہ گوالیار کے جنک گنج علاقے کا ہے، جہاں کی رہائشی ریٹائرڈ لیب ٹیکنیشن میناکشی ناکھرے کو سائبر ٹھگوں نے اپنا شکار بنایا۔ ٹھگوں نے خود کو سی بی آئی اور ای ڈی کا اعلیٰ افسر بتاتے ہوئے انہیں ویڈیو کال کے ذریعے ''ڈیجیٹل ہاوس اریسٹ' کر لیا تھا۔ ملزمان نے خاتون کو منی لانڈرنگ کے جھوٹے کیس میں پھنسانے اور جیل بھیجنے کا ایسا خوف دکھایا کہ انہوں نے خوف کے مارے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور الگ الگ بینکوں کی ایف ڈی تڑوا کر مبینہ جانچ کے نام پر 1.58 کروڑ روپے جعلسازوں کے بتائے ہوئے کھاتوں میں ٹرانسفر کر دیے۔
سائبر پولیس نے جب اس بڑی رقم کے ٹرانزیکشن اور بینک کھاتوں کی کڑیوں کو جوڑنا شروع کیا، تو ٹھگی کے 4 لاکھ روپے مرینا کے پورسا رہائشی راہل تومر کے کھاتے میں ٹرانسفر ہونے کی بات سامنے آئی۔ پولیس نے جب راہل کو حراست میں لے کر سختی سے پوچھ گچھ کی، تواس نے بتایا کہ اس نے محض تھوڑے سے کمیشن کے لالچ میں اپنا بینک کھاتا اپنے چچازاد بھائی روہت تومر کو استعمال کرنے کے لیے دے دیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم روہت تومر کو بھی پکڑ لیا۔ روہت نے جرم قبول کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے ایک غیر ملکی (چائنیز) نیٹ ورک کے براہِ راست رابطے میں تھا۔ ٹھگی کی جو بھی رقم کھاتوں میں آتی تھی، اسے وہ بائننس پلیٹ فارم کے ذریعے یو ایس ڈی ٹی (کرپٹو کرنسی) میں بدل کر آگے ٹرانسفر کر دیتا تھا۔ سائبر پولیس نے گرفتار کیے گئے دونوں ملزمان کے قبضے سے ٹھگی اور مالیاتی ہیر پھیر میں استعمال ہونے والے 10 اے ٹی ایم کارڈ، 3 چیک بک، 2 موبائل فون اور 3 ایکٹو سم کارڈ برآمد کیے ہیں۔ اس معاملے میں پولیس کی یہ دوسری بڑی کامیابی ہے۔ اس سے پہلے پولیس مہاراشٹر کے ناسک سے ایک لوہا تاجر کو بھی گرفتار کر چکی ہے، جس کے بینک کھاتے میں ٹھگی کی رقم کی پہلی قسط جمع کرائی گئی تھی۔
ڈی ایس پی سائبر منیش یادو نے معاملے کے بارے میں بتایا کہ مرینا سے پکڑے گئے دونوں چچیرے بھائیوں کو عدالت سے ریمانڈ پر لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس اب اس پورے ریکیٹ کے انٹرنیشنل ان پٹ اور تکنیکی پہلووں کی جانچ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جن دیگر بینک کھاتوں میں رقم کو ٹرانسفر یا لیئرنگ کیا گیا ہے، ان تمام بینک کھاتوں کو فریز کرانے اور ان کے کھاتہ داروں تک پہنچنے کے لیے جانچ کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن

