Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ہندوستان میں الیکٹرانکس انقلاب کا اگلا مرحلہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی توسیع ہے : مودی

ہندوستان میں الیکٹرانکس انقلاب کا اگلا مرحلہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی توسیع ہے : مودی

سانند، 4 جولائی (ہ س)۔

وزیر اعظم نریندر مودی نےہفتہ کو گجرات کے سانند میں سی جی سیمی کی آو¿ٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹ (او ایس اے ٹی) سہولت کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر صنعت کی توسیع پچھلی دہائی کے الیکٹرانکس انقلاب کا اگلا مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا مقصد ایک مکمل سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم تیار کرنا ہے جس میں چپ ڈیزائن، فیبریکیشن اور پیکیجنگ پر محیط ہے، جس سے ہندوستان میں الیکٹرانکس کی ویلیو چین قائم ہو۔

7,500 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے ساتھ تیار کیا گیا، یہ پلانٹ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت منظور شدہ پہلے چار پروجیکٹوں میں شامل ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پروگرام اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہندوستان جو کچھ کرنا چاہتا ہے اسے حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے، ہندوستان نے ملک کو سیمی کنڈکٹر کا مرکز بنانے کا عزم کیا تھا اور ڈیزائن ان انڈیا اور میک ان انڈیا کے منتر کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ملک کے تیسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں چپ پیکیجنگ کی تجارتی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں 2024 میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا، چپ کی ٹیسٹنگ اگست 2025 میں شروع ہوئی اور اب اس کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگ بنیاد رکھنے سے لے کر پیداوار تک کا یہ سفر بہت سے لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سی جی سیمی پلانٹ ہندوستان، جاپان اور تھائی لینڈ کے صنعتی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں کی علامت ہے۔ یہ صرف ایک تجارتی منصوبہ نہیں ہے، بلکہ ٹیکنالوجی، اعتماد اور شراکت داری کا ایک نمونہ ہے جو ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سفر کو نئی تحریک دے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ پلانٹ سالانہ 200 ملین چپس تیار کرے گا، یعنی یومیہ 15 ملین سے زیادہ چپس تیار کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ ہدف جلد ہی حاصل کر لیا جائے گا ۔

اپنی ماضی کی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 20 سال پہلے، یا اس سے بھی پہلے، انہوں نے گجرات میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ قائم کرنے کا مکمل منصوبہ تیار کیا تھا۔ انہوں نے 350 سے 400 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی تھی اور کئی کمپنیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مرکزی حکومت کی طرف سے پالیسی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ پروجیکٹ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میڈیا ان کا مذاق اڑایا کرتا تھا جب وہ سیمی کنڈکٹرز کی بات کرتے تھے لیکن آج وہ اس خواب کو پورا ہوتے دیکھ کر سب سے زیادہ خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ موقع ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لئے ملک کے عزم کا بھی ثبوت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال کے آغاز میں انہوں نے کہا تھا کہ 2026 تک چار سیمی کنڈکٹر سہولیات کام کر جائیں گی لیکن اب ان کے وزیر نے کہا ہے کہ یہ تعداد چار نہیں بلکہ پانچ ہو جائے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج کا ہندوستان بڑے اہداف طے کرتا ہے اور انہیں وقت پر حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ اعتماد ہے جو ہندوستان عالمی سرمایہ کاروں کو دیتا ہے۔ ہندوستان کی پالیسیوں میں استحکام، فیصلوں میں وضاحت اور عمل درآمد میں رفتار ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہندوستان نے جس اصلاحات کا راستہ اختیار کیا ہے اس میں مزید تیزی آئے گی۔

ہندوستانی ساختہ سی-295 طیارے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وڈودرا میں بنایا اور اڑایا، لیکن میڈیا نے اسے خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک صرف ایک فیکٹری کی بنیاد پر عالمی صنعتی طاقت نہیں بن سکتا۔ امریکہ کی سیلیکون ویلی اور جاپان کا سیلیکون جزیرہ صنعتی کلسٹرز کی اہمیت کی مثالیں ہیں اور اب سانند اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جہاں ایک بڑا ہندوستانی سیمی کنڈکٹر کلسٹر تیار ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مقصد چپ ڈیزائن سے لے کر فیبریکیشن اور پیکیجنگ تک ایک مکمل سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم بنانا ہے۔ ہندوستان میں تیار کردہ چپس کا استعمال کرتے ہوئے، ملک کے نوجوان مصنوعی ذہانت (اے آئی )، روبوٹکس، اور نیکسٹ جنریشن کے تکنیکی انقلاب کو تیز کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر کی صنعت کی توسیع اچانک نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ الیکٹرانکس کے انقلاب کا فطری تسلسل ہے جو پچھلی دہائی میں رونما ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پہلے مصنوعات، پھر اجزاء اور اب سیمی کنڈکٹر میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں الیکٹرانکس کی پوری ویلیو چین تیار کی جائے گی۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کا روڈ میپ ہے اور 'میک ان انڈیا' کا اگلا مرحلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا اور دوسرا سب سے بڑا موبائل فون برآمد کنندہ ہے۔ 2014 کے مقابلے میں، ملک کی کل الیکٹرانکس کی پیداوار میں تقریباً سات گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ الیکٹرانکس کی برآمدات میں تقریباً 11 گنا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے ملک کے نوجوانوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جب بھی کوئی نیا صنعتی انقلاب آتا ہے تو نوجوانوں کے لیے سب سے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ہندوستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کو عالمی سیمی کنڈکٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبہ میں نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu