Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
یوکرین کا روس پر پھر بڑا ڈرون حملہ، سینٹ پیٹرزبرگ میں تیل ریفائنری اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

یوکرین کا روس پر پھر بڑا ڈرون حملہ، سینٹ پیٹرزبرگ میں تیل ریفائنری اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

ماسکو/کیف، 05 جولائی (ہ س)۔ یوکرین نے گزشتہ رات روس پر ایک اور بڑا ڈرون حملہ کیا۔ ایک ساتھ سینکڑوں ڈرون چھوڑے گئے۔ یوکرین نے سینٹ پیٹرزبرگ کے پاس تیل ریفائنری اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ روس کی وزارتِ دفاع نے مانا کہ اس حملے میں تقریباً 500 ڈرون شامل تھے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایکس پر اس حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی۔ اس میں سینٹ پیٹرزبرگ کی بندرگاہ پر موجود ایک آئل فیسلٹی (تیل کی تنصیب) سے دھوئیں کا بڑا غبار اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی چینل اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے سینٹ پیٹرزبرگ بندرگاہ پر آئل فیسلٹی کے ساتھ ساتھ کرونسٹیڈ بحری اڈے کے آس پاس فوجی ٹھکانوں پر کامیابی سے حملہ کیا ہے۔ روس کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس حملے میں تقریباً لمبی دوری کے 500 ڈرون شامل تھے۔ ماسکو کے میئر نے کہا کہ 200 ڈرونز نے روس کے دارالحکومت کو نشانہ بنایا۔ یوکرین اب روس کے اندر تک تیل ریفائنریوں اور انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ دفاعی صنعتی مراکز پر تقریباً روزانہ کامیابی سے حملے کر رہا ہے۔ حملوں میں وہ لمبی دوری کے ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یوکرین کے حملوں کے بعد روس کے کئی علاقوں میں ایندھن کی کمی ہو گئی ہے۔ لوگ گیس اسٹیشنوں پر لمبی لائنوں میں انتظار کرتے ہوئے خود کی ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی، جنگ کے میدان میں روس کی مشکلات بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ درمیانی دوری کے ڈرونز کا استعمال کر کے یوکرین کی تیزی سے اثر دار ہوتی مہم روس کے لاجسٹکس کو نشانہ بنا رہی ہے اور مقبوضہ کریمیا میں سپلائی لائنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کریمیا میں حکام نے ایندھن کی کمی کی وجہ سے ایمرجنسی کی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے اور یوکرینی حملوں کے باعث بجلی کی کٹوتی کے درمیان کرفیو لگا دیا ہے۔

اس دوران، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے رات میں وردی پہن کر ایک فوجی ٹھکانے کا دورہ کیا۔ روس کی فوج نے ہفتہ کو دعویٰ کیا کہ اس نے یوکرین کے مشرقی ڈونباس خطے میں ایک اہم دفاعی مرکز کوسٹینٹینیوکا شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ سچ ہے تو اسے روس کے لیے بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اس سال ماسکو کی جنگ کے میدان میں پہلی بڑی کامیابی ہوگی۔

پولینڈ کے دفاعی تجزیہ کار اور روچن کنسلٹنگ کے ڈائریکٹر کونراڈ موزیکا کے مطابق، روس بہت سست رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ مئی میں اس نے جتنا علاقہ حاصل کیا، اس سے زیادہ علاقہ مجموعی طور پر کھو دیا ہو۔ آزاد مبصرین اور مغربی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق، اس لڑائی میں روسی فوج کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu