
جموں، 05 جولائی(ہ س)۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمارسکسینہ نے پشمینہ صنعت کے فروغ اور چانگپا خانہ بدوش چرواہوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے دو اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلے نو تشکیل شدہ لداخ پشمینہ ڈیولپمنٹ بورڈ کے پہلے اجلاس میں کیے گئے۔اجلاس میں پہلی مرتبہ لائیو اسٹاک ڈیولپمنٹ انسینٹو پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کے تحت پشمینہ فروخت کرنے والے اہل چرواہوں کو سرکاری خرید قیمت کے علاوہ 25 فیصد اضافی ترغیبی رقم فراہم کی جائے گی۔ یہ رقم براہ راست ڈی بی ٹی کے ذریعے مستحقین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔
اس کے علاوہ آل چانگ تھانگ پشمینہ گروورز کوآپریٹو مارکیٹنگ سوسائٹی کے لیے 8 کروڑ روپے کے ریوالونگ فنڈ کی بھی منظوری دی گئی، تاکہ خانہ بدوش چرواہوں سے خام پشمینہ کی بروقت خرید اور فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد پشمینہ بکریوں کی تعداد اور پیداوار میں اضافہ، پشمینہ کے معیار کو بہتر بنانا، چرواہوں کی آمدنی بڑھانا اور دلالوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نوجوان نسل بھی پشمینہ بکریوں کی پرورش کے روایتی پیشے سے وابستہ رہنے کی طرف راغب ہوگی۔ بورڈ نے آئندہ تین برسوں میں لداخ میں پشمینہ بکریوں کی تعداد تقریباً دو لاکھ سے بڑھا کر چار لاکھ کرنے اور فی بکری خام پشمینہ کی پیداوار 200 گرام سے بڑھا کر 350 گرام تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
ریوالونگ فنڈ کے تحت چرواہوں کو خام پشمینہ کی قیمت کا 50 فیصد حصہ فوری ادا کیا جائے گا، جبکہ باقی رقم دو ماہ کے اندر فراہم کی جائے گی۔ اس سے قبل ادائیگی میں آٹھ سے دس ماہ تک تاخیر ہوتی تھی، جس کے باعث چرواہوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے کہا کہ یہ دونوں فیصلے پشمینہ صنعت کو مضبوط بنانے، چرواہوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ کو مزید فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر

