
نئی دہلی، 8 جولائی (ہ س)۔
ہریانہ میں حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کے امیدوار کرم ویر سنگھ بودھ کی جیت کو پارٹی نے جمہوری جدوجہد میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا۔ بی جے ی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے میدان میں اترنے ،کراس ووٹنگ ،ووٹوں کے رد ہونے کے تنازعہ ،ووٹوں کی گنتی میں طویل تعطل اور کانگریس کے احتجاج اور مخالفت کے درمیان اس ہائی پروفائل مقابلے میں کرمویر بودھ بے حد کم فرق سے راجیہ سبھا پہنچے تھے ۔ ہندوستھان سماچار کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، کرم ویر سنگھ بودھ نے پورے راجیہ سبھا انتخابی عمل پر وضاحت کے ساتھ اپنی بات رکھی۔
سوال: آپ نے راجیہ سبھا کا سب سے دلچسپ مقابلہ جیتا۔ آپ کا پہلا ردعمل کیا تھا؟
جواب: اس ملک میں جو جمہوریت، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر اور آئین ساز اسمبلی کے اراکین نے جس وزن کے ساتھ اسے بنایا تھا کہ ملک میں ہر ایک کا یکساں احترام کیا جائے اور قانون کے مطابق سب کو مساوی حقوق حاصل ہوں، مجھے راجیہ سبھا میں داخلہوتے وقت ایسا ہی محسوس ہوا ۔
سوال: آپ نے ہریانہ سول سیکرٹریٹ میں انتظامی افسر اور قانون ساز اسمبلی کے سیکرٹری کے طور پر 32 سال تک خدمات انجام دیں۔ بیوروکریسی کے اوپر سے اٹھ کر اب راجیہ سبھا میں عوامی نمائندہ بننا آپ کے لیے کتنا مشکل تھا؟
جواب: میں کالج کے زمانے میں سماجی تحریکوں میں شامل رہا تھا۔ اس کے بعد سروس کے دوران بھی میں مختلف سماجی تحریکوں میں شامل رہا۔ میں نے بابا صاحب کی لڑائی جیسے تعلیم یافتہ رہنا، منظم رہنا، لڑنا، اور امتیازی سلوک اور پاکھنڈ کا مقابلہ کرنا۔ اس کے علاوہ اپنی ملازمت کے دوران، میں نے وزارتوں اور سیکرٹریٹ میں خدمات انجام دیں، اور اس وقت کے تقریباً تمام ریاست کے وزرائے اعلیٰ مجھے جانتے تھے۔ میں نے ان تمام وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کام کیا۔ ہم نے ہزاروں میٹنگیں کیں، پارلیمنٹ کا گھیراو¿ کیا، سپریم کورٹ کا گھیراو¿ کیا، رام لیلا میدان اور ملک بھر میں بے شمار ریلیاں نکالیں۔ مجھے وہ کام کرنا اچھا لگتا تھا ۔ ان تمام کاموں کے لیے، ہمارا پہلے رام راج، اب جوادت راج ہو گئے ہیں۔ ان کے ساتھ کنفیڈریشن تھا۔اسی کنفیڈریشن کے تحت ہم نے پروموشن میں ریزرویشن کے معاملے پر پارلیمنٹ میں ایک ترمیم بھی کروایا۔
سوال: آپ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دینا کانگریس کا دلت کارڈ کہا جا رہا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب: کانگریس پارٹی میں وقت وقت پر چاہے پٹیل کے زمانہ ہو، جواہر لعل نہرو کا زمانہ ہو ، اندرا گاندھی جی ہوں، یا راجیو گاندھی ہوں،کانگریس نے ہمارے سماج کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ نوودیہ ودیالیہ کھولے ، رہائشی اسکول قائم کیے گئے، بیکلاگ بھرتیاں کی گئیں، خصوصی منصوبے بنائے گئے، اور زمین کے پٹے دیے گئے۔ بابا صاحب کانگریس سے لڑتے رہے، لیکن کانگریس ہی نے انہیں آئین ساز اسمبلی کا چیئرمین بنایا۔ یہ کانگریس ہی تھی جس نے بابا صاحب کو راجیہ سبھا کا رکن اور ملک کا پہلا وزیر قانون بنایا۔ کانگریس وقتاً فوقتاً دلتوں کی ترقی کرتی رہتی ہے۔ میں اس کی ایک مثال ہوں۔
سوال: ایم پی بننے کے بعد یہ آپ کا پہلا مانسون سیشن ہوگا۔ آپ پارلیمنٹ میں کون سے دو بڑے ایشوز اٹھانا چاہیں گے؟
جواب: میرا پہلا مسئلہ صفائی ملازمین کا ہوگا ۔ انہیں پورے ملک میں آو¿ٹ سورس کے تحت کر دیا گیا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اچھوت کا شکار ہیں اور معاشی طور پر سب سے زیادہ کمزور ہیں۔ دوسرا مسئلہ استحصال کا ہوگا۔ کوئی بھی حکومت درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل ایکٹ کو صحیح طریقے سے نافذ نہیں کرتی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے ہمارے حق میں آتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ میں ان مسائل پر آواز اٹھاتا رہوں گا۔ موجودہ حکومت آخری پائدا ن کیبات کرتی ہے لیکن اس نے آخری پائدان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مجھے چھ سال ملے ہیں، اور میں اس طرح کے مسائل کو اٹھاتا رہوں گا۔
سوال: آپ تیس سال سے بیوروکریٹ رہے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نظام کی خامیوں کو دوسرے سیاستدانوں کے مقابلے بہتر انداز میں سامنے لا سکیں گے؟
جواب: جی ہاں، جب دلتوں، پسماندہ طبقوں اور قبائلیوں سے متعلق فائلیں سامنے آتی ہیں تو افسران ہمت نہیں دکھا پاتے۔ اسکیمیں صرف کاغذوں پر ہی رہ جاتی ہیں۔ آئین دنیا کا سب سے بہترین ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے ذمہ دار لوگ صحیحنہیں ہیں۔ مجھے تمام انتظامی کاموں کا علم ہے۔ جو فائلیں آتی ہیں ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟ میں نے اس کا گہرائی سے مشاہدہ کیا ہے۔ ایس سی اور ایس ٹی پس منظر سے تعلق رکھنے والے وزراء اور ایم ایل ایز ہوتے ہیں، ان کی اپنی برادریوں کے مسائل کو چیف منسٹر کے سامنے اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ میں نے اس کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ ان کے علاقوں میں جو ا سکیمیں ہیں ، وہ صرف کاغذوں پر ہیں۔ یہ تمام مسائل ہیں، اور میں ان کے نفاذ کے لیے انہیں اٹھاتا رہوں گا۔
سوال: 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد کی صورتحال موجودہ حالات کے مقابلے میں کافی بدل گئی ہے۔ حکمراں اتحاد کے پاس بھلے ہی دو تہائی اکثریت نہ ہو لیکن وہ دو تہائی اکثریت کے بہت قریب ہے۔ اگر آئینی ترمیم منظور ہو گئی تو آپ کی حکمت عملی کیا ہو گی؟
جواب: موجودہ حکومت نے پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو توڑ کر چھ راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ کو ضم کر لیا۔ اس کے بعد، ٹی ایم سی کے اراکین اسمبلی، ایم ایل ایز، شیو سینا، اور این سی پی کے اراکین اسمبلی بھی توڑ دیئے گئے۔اس طرح سے دیگر پارٹیوں کو ڈرا کر موجودہ حکومت چل رہی ہے۔ خواتین ریزرویشن بل پہلے ہی پاس ہو چکا ہے، تو حد بندی میں اتنی جلد بازی کیوں ؟ ہم ایسے کسی بھی بل کی بھرپور مخالفت کریں گے۔
سوال: آئندہ پارلیمنٹ سیشن میں رام مندر چڑھاوا چوری ،نیٹ پیپر لیک جیسے مسائل پر آپ کی حکمت عملی کیا ہوگی؟
جواب: نیٹ امتحان کا پیپر بار بار لیک ہوتا ہے۔ حکومت کو اپنے اہلکاروں پر بھروسہ نہیں ہے، اس لیے سب کچھ آو¿ٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ رام مندر کے لیے دیے گئے کروڑوں روپے کا حساب کون دے گا؟ ہم ان مسائل پر اپنی آواز ضرور اٹھائیں گے۔
سوال: ہریانہ میں کسانوں سے جڑے مسائل اور فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس معاملے پر آپ کی حکمت عملی کیا ہے؟
جواب: میں خود ایک کسان ہوں۔ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن پورا نہیں کیا جا رہا ہے۔ کسانوں کو کھاد، بیج اور دیگر سامان بروقت نہیں مل رہا ہے۔ نہ تو کسانوں کی آمدنی دوگنی ہوئی ہے اور نہ ہی انہیں ایم ایس پی مل رہی ہے۔ یہ حکومت کسان اور مزدور مخالف ہے۔
سوال: ہریانہ میں روزگار کا مسئلہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگنیویر جیسی اسکیموں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: اگنیویر اسکیم کے تحت چار سال تک کام کرنے کے بعد، آپ کو کچھ نہیں ملتا۔ ہزاروں سرکاری عہدے خالی ہیں، اور سب کچھ آو¿ٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ نوجوان بے روزگار ہیں۔ ہم مستقبل میں یقینی طور پر اس معاملے کو مزید مضبوطی سے اٹھائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

