Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ایم پی بننا صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں ہے، بلکہ پسماندہ لوگوں کی آواز بلند کرنے کا موقع بھی ہے: کرم ویر بودھ

ایم پی بننا صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں ہے، بلکہ پسماندہ لوگوں کی آواز بلند کرنے کا موقع بھی ہے: کرم ویر بودھ

Hindusthan Samachar 3 months ago

نئی دہلی، 8 جولائی (ہ س) ۔ کانگریس کے ہریانہ سے راجیہ سبھا کے نومنتخب رکن کرم ویر سنگھ بودھ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ان کا داخلہ نہ صرف ایک سیاسی کامیابی ہے بلکہ قومی سطح پر سماجی انصاف، آئینی اقدار اور محروم طبقات کی آواز کو مضبوطی سے بلند کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مانسون اجلاس ان کا پہلا اجلاس ہوگا۔ اس میں وہ صفائی کارکنوں کی حالت، ایس سی اور ایس ٹی پر مظالم، کسانوں کے مسائل، نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور آئین سے متعلق مسائل کو نمایاں طور پر اٹھائیں گے۔

ہندوستھان سماچار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کرم ویر بودھ نے راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پیش آئے واقعات، سماجی انصاف کی سیاست، کسانوں کے مسائل، روزگار، اگنی ویر یوجنا، آئینی ترمیم، حد بندی، رام مندر چڑھاوا چوری اور این ای ای ٹی امتحان کے پیپر لیک پر تفصیل سے بات کی۔

راجیہ سبھا انتخابات میں قریبی مقابلہ میں ملی جیت پر بودھ نے کہا کہ یہ جمہوریت اور آئین پر اعتماد کی فتح ہے۔ کانگریس کے کافی ووٹ شیئر ہونے کے باوجود انتخابات کے دوران خوف اور غیر یقینی کا ماحول پیدا ہوا۔ جمہوریت میں عوام کے منتخب کردہ ایم ایل اے کو بھی جس طرح کے دباو اور خدشات کا سامنا کرنا پڑا وہ تشویشناک ہے۔

بودھ نے کہا کہ اپنے انتظامی تجربے کی وجہ سے انہیں نظام کی خامیوں اور چیلنجوں کی گہری سمجھ ہے۔ آئین اور قانون میں سماجی انصاف کے لیے کافی دفعات ہیں، لیکن نفاذ کی سطح پر سنگین خامیاں ہیں۔ دلتوں، پسماندہ اور قبائلیوں کے لیے بہت سی اسکیمیں زمینی سطح پر مطلوبہ نتائج نہیں دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی توجہ صفائی کارکنوں کے مسائل پر ہوگی۔ آوٹ سورسنگ کے انتظامات نے اس طبقے کی پوزیشن کو مزید کمزور بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس سی/ایس ٹی پریوینشن آف ایٹروسٹیز ایکٹ کے موثر نفاذ کا مسئلہ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ مظالم کے معاملات میں قوانین موجود ہیں، لیکن متاثرین کو وقت پر انصاف نہیں ملتا۔

آئینی ترمیم اور حد بندی جیسے مسائل پر بودھ نے کہا کہ کانگریس آئین کی بنیادی روح یا جمہوری توازن کو متاثر کرنے والی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کو توڑ کر اور دباو¿ کی سیاست کے ذریعے اقتدار کو بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کانگریس آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ میں پوری طاقت کے ساتھ بات کرے گی۔

بودھ نے کہا کہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، بڑھتی ہوئی لاگت اور کسانوں کی آمدنی سے متعلق سوالات آج بھی حل نہیں ہوئے ہیں۔ کسانوں سے کیے گئے بہت سے وعدے پورے نہیں ہوئے۔ کسانوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے بودھ نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں کسانوں کے مفادات سے متعلق مسائل اٹھاتے رہیں گے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu