ممبئی، 8 جولائی (ہ س) مہاراشٹر کے وزیر مالیہ چندرشیکھر باونکولے نے اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ برطانوی دور میں چرچ مشنری اداروں کو دی گئی اور آزادی کے بعد مشتبہ حالات میں منتقل کی گئی ریاست بھر کی تمام زمینوں کی آئندہ تین ماہ کے اندر جامع تحقیقات کرائی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ناسک ڈایوسیسن ٹرسٹ اور ایک نجی کمپنی سے متعلق تنازع کے باعث متاثر ہونے والے تقریباً پانچ ہزار خاندانوں کے مسئلے کے حل کے لیے ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
یہ معاملہ رکن اسمبلی دیویانی فراندے نے توجہ طلب نوٹس کے ذریعے ایوان میں اٹھایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 12 اگست 1949 کو دی چرچ مشنری ٹرسٹ ایسوسی ایشن لمیٹڈ، لندن اور دی ناسک ڈایوسیسن ٹرسٹ ایسوسی ایشن لمیٹڈ، ناسک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا۔ ان کے مطابق برطانوی حکومت نے یہ زمینیں عیسائی برادری کے اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کے قیام کے لیے فراہم کی تھیں، لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران اصل ٹرسٹیوں کے انتقال کے بعد مبینہ طور پر سرکاری دستاویزات میں رد و بدل کرکے ایک نجی شخص کو تمام اختیارات منتقل کر دیے گئے۔
دیویانی فراندے نے الزام لگایا کہ ان زمینوں پر بڑے پیمانے پر لین دین کیا گیا اور اب مقامی شہریوں کو تعمیرات یا جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے اسی نجی کمپنی سے لاکھوں روپے ادا کرکے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ حاصل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ضلع کلکٹر کے دفتر سے 1932 سے قبل کے اصل سات بارہ ریکارڈ اور دیگر اہم فائلیں بھی غائب ہو چکی ہیں، جس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
وزیر مالیہ چندرشیکھر باونکولے نے کہا کہ یہ معاملہ نہایت سنگین نوعیت کا ہے اور حکومت شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ مقدمہ بامبے ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، تاہم سرکاری سطح پر تحقیقات کرانے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔ اسی مقصد کے تحت ڈویژنل کمشنر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کمیٹی میں جمابندی کمشنر کے دفتر کے نمائندے، ڈویژنل کمشنر، محکمہ رجسٹریشن کے اعلیٰ افسران اور پولیس محکمے کے نمائندے شامل ہوں گے، جو پورے معاملے کی باریک بینی سے جانچ کریں گے۔ وزیر مالیہ نے مزید اعلان کیا کہ یہ تحقیقات صرف ناسک تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ جمابندی کمشنر کے ریکارڈ کی بنیاد پر ناندگاؤں، اورنگ آباد اور مہاراشٹر کے دیگر اضلاع میں چرچ مشنری اداروں سے متعلق تمام زمینوں کی جانچ کی جائے گی اور تین ماہ کے اندر مفصل رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا بھی قانونی جائزہ لے گی کہ جن زمینوں کا اصل مقصد تعلیم، صحت اور عوامی فلاح تھا، اگر انہیں اس مقصد کے برخلاف استعمال کیا گیا ہے تو کیا انہیں نجی کمپنیوں کے قبضے سے واپس لے کر سرکاری تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔
چندرشیکھر باونکولے نے مزید کہا کہ نجی کمپنی کے معاملات کی پولیس کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں گی، جبکہ محکمہ خیراتی کمشنر کے ذریعے کمپنی کے ڈائریکٹروں اور رجسٹریشن ریکارڈ کی بھی جانچ ہوگی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بامبے ہائی کورٹ میں حکومت کا مؤقف مضبوط انداز میں پیش کرنے کے لیے خصوصی سرکاری وکیل بھی مقرر کیے جائیں گے تاکہ متاثرہ شہریوں کے مفادات کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے
