ممبئی ، 8 جولائی (ہ س) مہاراشٹر کے وزیر مالیات چندر شیکھر باون کلے نے قانون ساز اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ ریاست میں زرعی زمین خریدنے کے لیے متعلقہ شخص کا کسان ہونا لازمی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کسی بھی فرد کو اس وقت تک زمین خریدنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہ کسان ہونے کا معتبر ثبوت پیش نہ کرے۔ اس مقصد کے لیے ریاست بھر میں جمابندی کمشنر کے ذریعے زمینوں کی میپنگ کر کے ایک نیا اور سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔
وزیر مالیات نے یہ اعلان دھولیہ ضلع کے رکن اسمبلی انوپ اگروال کی جانب سے ودجائی، پمپری اور نرواہال علاقوں میں مبینہ اراضی گھوٹالے اور دیگر ریاستوں کے افراد کی جانب سے قواعد کے خلاف زمین خریدنے کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد کیا۔ جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت لینڈ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی غیر قانونی لین دین کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
چندر شیکھر باون کلے نے کہا کہ دھولیہ ضلع میں سامنے آنے والی شکایات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات ڈویژنل کمشنر پروین گیڈام کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم کرے گی، جبکہ پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تفتیش دھولیہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے بھی کرائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جانچ میں دو معاملات میں متعلقہ افراد کے کسان ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مزید یہ کہ رکن اسمبلی انوپ اگروال کی جانب سے پیش کیے گئے تحصیلدار کی مہر والے بعض ریکارڈ بھی جعلی ہونے کا شبہ ہے۔ اس لیے جعل سازی، فرضی اندراجات اور سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر مالیات نے دھولیہ کی متنازع اراضی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصل مالکان نے یہ زمین فروخت کرنے کے بعد اسے جے پرکاش ہاؤسنگ سوسائٹی کے 44 ارکان کے نام منتقل کر دی تھی، لیکن 2010 میں اصل مالکان کے مبینہ وارثوں نے بعض ریونیو افسران کی ملی بھگت سے دوبارہ غیر قانونی طور پر اپنے نام وراثتی اندراج کرا کر یہی زمین دوسرے افراد کو فروخت کر دی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک مرتبہ زمین فروخت ہو جانے کے بعد دوبارہ سابق مالکان کے وارثوں کے نام درج کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔ اسی لیے حکومت اس معاملے کے ازسرنو جائزے کے لیے خصوصی اجازت دے گی، 2010 میں کی گئی غیر قانونی وراثتی اندراجات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے گا اور اصل 44 ارکان کے حقوق بحال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دفعہ 155 کا مبینہ غلط استعمال کرتے ہوئے رقبے میں کی گئی تمام تبدیلیاں بھی منسوخ کر دی جائیں گی۔
اس موقع پر سندھودرگ ضلع کے دودامارگ اور موپا ہوائی اڈے کے اطراف دیگر ریاستوں کے افراد کی جانب سے بڑے پیمانے پر زمین خریدنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس کے بعد وزیر مالیات نے ریاست گیر نگرانی کے نئے نظام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب ریاست کے تمام محکمہ رجسٹری و اسٹامپ افسران کو جمابندی کمشنر کے ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی فراہم کر دی گئی ہے۔ اس نئی سہولت کے ذریعے زمین کی رجسٹری کے لیے آنے والے ہر خریدار کے بارے میں فوری طور پر معلوم کیا جا سکے گا کہ آیا اس کے نام پر ریاست میں کہیں اور زمین موجود ہے یا نہیں اور اس کا سات بارہ ریکارڈ کہاں درج ہے۔
وزیر مالیات نے مزید کہا کہ اگر کسی دوسری ریاست سے تعلق رکھنے والا غیر کسان شخص مشتبہ پایا گیا تو اس کی زمین کی رجسٹری فوری طور پر روک کر مکمل جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس نئے نظام سے جعلی کسان بن کر زمینوں پر قبضہ کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر روک لگائی جا سکے گی اور ریاست میں اراضی کے غیر قانونی لین دین پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے
