
بھوپال، 08 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے سابق حزب اختلاف رہنما اور سینئر کانگریس لیڈر اجے سنگھ نے سردار سروور پروجیکٹ سے متعلق حالیہ معاہدے کو لے کر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے سردار سروور پروجیکٹ کے تحت ریاست کے معاوضے کے تقریباً 7,770 کروڑ روپے کے دعوے کو چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی، معاہدے کے مطابق اب مدھیہ پردیش کو گجرات کو 550 کروڑ روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ اجے سنگھ نے اسے ریاست کے کسانوں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
اجے سنگھ نے بدھ کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ حال ہی میں نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ کی صدارت میں چار ریاستوں کی میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جس میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ ان کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ نے میٹنگ میں مدھیہ پردیش کا موقف مضبوطی سے نہیں رکھا اور ریاست کے مفادات کی ان دیکھی کرتے ہوئے معاہدے کو قبول کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ سردار سروور ڈیم کی اونچائی 58 میٹر تک بڑھائے جانے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست مدھیہ پردیش رہی ہے۔ ان کے مطابق، ڈوبنے والے علاقے میں آنے والی تقریباً 37,500 ہیکٹر اراضی میں سے 55.50 فیصد، یعنی 20 ہزار ہیکٹر سے زیادہ زمین مدھیہ پردیش کی ہے۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ زرعی زمین، گاوں اور جنگلاتی علاقے بھی ریاست میں ہی متاثر ہوئے ہیں۔
اجے سنگھ کا کہنا ہے کہ انہی بنیادوں پر مدھیہ پردیش نے بازآبادکاری، ریونیو، جنگلاتی زمین اور سرکاری اثاثوں کے نقصان کی بھرپائی کے لیے گجرات سے تقریباً 7,669 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ اس دعوے کو چھوڑتے ہوئے اب ریاستی حکومت نے گجرات کو 550 کروڑ روپے دینے پر رضامندی دے دی ہے۔ سابق حزب اختلاف رہنما نے کہا کہ سردار سروور پروجیکٹ سے سب سے زیادہ غریب، قبائلی اور کسان خاندان متاثر ہوئے ہیں، جنہوں نے بے گھر ہونے کی بڑی قیمت چکائی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ یہ فیصلہ متاثرہ خاندانوں کے جذبات اور ریاست کے حقوق کی ان دیکھی کرتا ہے۔
اجے سنگھ نے وزیر اعلیٰ سے عوامی طور پر واضح کرنے کا مطالبہ کیا کہ کن حالات میں اس معاہدے کو قبول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس فیصلے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

