Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
نرمدا آبی معاہدے پر کانگریس کا حکومت پر حملہ، کنال چودھری نے وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا

نرمدا آبی معاہدے پر کانگریس کا حکومت پر حملہ، کنال چودھری نے وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا

بھوپال، 08 جولائی (ہ س)۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی کنال چودھری نے بدھ کے روز دارالحکومت بھوپال میں واقع ریاستی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نرمدا ندی سے جڑے آبی حقوق، سردار سروور پروجیکٹ اور حالیہ بین ریاستی معاہدے کو لے کر مدھیہ پردیش حکومت پر کئی سنگین الزامات لگائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے اور پورے معاملے پر وائٹ پیپر جاری کر کے عوام کے سامنے حقائق رکھنے چاہئے۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق ترجمان کندن پنجابی اور وکرم چودھری بھی موجود تھے۔

کنال چودھری نے کہا کہ نرمدا مدھیہ پردیش کی لائف لائن ہے۔ اس کا منبع اور زیادہ تر جھیل کا علاقہ ریاست میں ہونے کی وجہ سے ریاست کا اس پر قدرتی حق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ندی سے جڑے ترقیاتی کاموں اور ڈیموں کی وجہ سے سب سے زیادہ نقل مکانی، زمین کے ڈوبنے اور ماحولیاتی اثرات بھی مدھیہ پردیش کو جھیلنے پڑے ہیں۔ انہوں نے 'نرمدا واٹر ڈسپیوٹس ٹریبیونل' (این ڈبلیو ڈی ٹی) کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبیونل نے مدھیہ پردیش کو 18.25 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی الاٹ کیا تھا اور سال 25-2024 کے بعد پانی کے استعمال اور منصوبوں پر نظرثانی کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔

کانگریس لیڈر نے حال ہی میں نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہوئی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میٹنگ میں مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان اور مہاراشٹر کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزیر برائے آبی وسائل شامل تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس میٹنگ میں مدھیہ پردیش نے ڈوبنے والے علاقے میں گئی سرکاری زمین اور اثاثوں کے معاوضے سے جڑے اپنے دعوے سے پیچھے ہٹتے ہوئے گجرات کو 550 کروڑ روپے دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ پہلے گجرات پر مدھیہ پردیش کا 7,669 کروڑ روپے کا دعویٰ تھا۔ انہوں نے حکومت سے اس معاہدے کی شرائط عام کرنے اور اس کی بنیادیں واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

کنال چودھری نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت ریاست کے حصے کے 18.25 ایم اے ایف پانی کا مکمل استعمال یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مجوزہ بڑے اور چھوٹے آبی منصوبے ادھورے ہیں یا بند کر دیے گئے ہیں، جس سے آبپاشی کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے برگی ڈائیورژن پروجیکٹ کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی لاگت اور مدت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جو انتظامی ناکامی کی علامت ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ سردار سروور پروجیکٹ سے مدھیہ پردیش کے کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں اور بڑی تعداد میں قبائلی و دیگر خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اب بھی مکمل طور پر نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بازآبادکاری صرف مالی امداد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ سیراب زمین، تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات بھی یقینی بنائی جانی چاہئیں۔

کنال چودھری نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے نرمدا آبی تنازعہ اور حالیہ معاہدے پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ حالیہ معاہدے کی بنیاد کیا ہے۔ نرمدا ٹریبیونل کے فیصلے کے بعد کتنے منصوبے اب بھی ادھورے ہیں۔ برگی ڈائیورژن پروجیکٹ کی لاگت میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔ ریاست میں کتنے کسان اب بھی آبپاشی کی سہولیات سے محروم ہیں اور کتنے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری باقی ہے۔ مدھیہ پردیش اپنے حصے کے 18.25 ایم اے ایف پانی کا مکمل استعمال کب تک کر سکے گا۔

کانگریس نے مطالبہ کیا کہ حکومت نرمدا اور مدھیہ پردیش کے مفادات سے منسلک تمام فیصلوں میں شفافیت برتے اور پورے معاملے کی حقائق پر مبنی معلومات عام کرے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu