
نئی دہلی، 9 جولائی (ہ س)۔
بدھ کی شام قومی راجدھانی کے روہنی سیکٹر 16 میں ایک نو تعمیر شدہ چار منزلہ (گراو¿نڈ پلس فلور) عمارت اچانک منہدم ہوگئی۔ حادثے میں تین افراد کی موت ہو گئی جبکہ ایک مزدور کو کئی گھنٹوں کی امدادی کارروائیوں کے بعد ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ پولیس، این ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ اور دیگر ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر راحت اور بچاو¿ کی کارروائیاں کیں۔ پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
روہنی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ششانک جیسوال نے جمعرات کو بتایا کہ بدھ کی شام تقریباً 4:28 بجے پی سی آر کال موصول ہوئی کہ مکان نمبر 151-152، جی-4 پاکٹ، روہنی سیکٹر 16 میں ایک نو تعمیر شدہ عمارت اچانک منہدم ہو گئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی، کاٹجومارگ تھانے سے پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی۔ انہوں نے دیکھا کہ پوری عمارت زمین بوس ہو گئی، ملبہ سڑک پر بکھرا پڑا ہے۔ مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ کچھ مزدور اور دیگر تعمیراتی کام کے دوران عمارت کے اندر تھے اور ملبے تلے دب گئے۔
این ڈی آر ایف، دہلی فائر بریگیڈ، ٹی پی ڈی ڈی ایل اور دیگر ایجنسیوں کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ بھاری مشینری اور جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا آپریشن شروع کیا گیا۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران سب سے پہلے صدام (34) ایک مزدور کو زندہ نکالا گیا۔ اسے فوری طور پر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے سے تین لاشیں بھی نکال لی گئیں۔ مرنے والوں کی شناخت 42 سالہ رام، 20 سالہ نورالہدی(عرف کیفے) اور 51 سالہ رام دواکے طور پر کی گئی ہے۔ رام مقامی رہائشی اور پیشے سے درزی تھا۔ نورالہدیٰ ضلع بہرائچ کا رہنے والا تھا اور تعمیراتی مزدور کا کام کرتا تھا۔ رام دوا عمارت کے مالک کا باپ بتایا جاتا ہے۔ تینوں کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے۔عمارت حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی۔ حادثے کے وقت کچھ تعمیراتی کام جاری تھا۔ اچانک، پوری عمارت منہدم ہو گئی، جس سے وہاں موجود لوگوں کو سنبھلنے کا وقت نہیں ملا۔ زوردار شور سن کر آس پاس کے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جس کے بعد پولیس اور دیگر ادارے بھی پہنچ گئے۔
حادثے کے بعد سیکیورٹی کے پیش نظر پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ ملبہ ہٹانے کا کام رات گئے تک جاری رہا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی اندر پھنسا نہ ہو۔ پولیس حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل ہو چکا ہے، تاہم احتیاط کے طور پر ملبہ ہٹانے کا کام جاری رکھا گیا۔
پولیس نے عمارت کی تعمیر، منصوبہ بندی کی منظوری، تعمیراتی سامان کے معیار اور حفاظتی معیارات کی پابندی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی نتائج کی بنیاد پر متعلقہ سیکشن کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تحقیقات میں اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ آیا کوئی غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اگر پایا گیا تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

