
پربھاس اور ہدایت کار سندیپ ریڈی وانگا کی انتہائی متوقع فلم "اسپرٹ" سے دیپیکا پدوکون کے باہر ہونے کا تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر، فلم کی شوٹنگ کے 8 گھنٹے کی شفٹ کی شرط موضوع بحث تھی، لیکن اب پروڈیوسر پرنے ریڈی وانگا کے نئے دعووں نے معاملے کو اور طول دے دیا ہے۔
پرنے نے دعویٰ کیا کہ دیپیکا نے فلم کے منافع میں 10 فیصد حصہ داری مانگی تھی۔ مالیاتی شرائط پر رضامندی نہیں ہونے کے بعد ٹیم نے دوسرے متبادل پر غور کیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دیپیکا کے ساتھ بات چیت ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہی تھی اور بعد میں فلم کے بارے میں اندرونی معلومات لیک ہوئی۔
پرنے کے اس دعوے نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگوں نے دیپیکا کے مبینہ مطالبات پر سوال اٹھائے ، جب کہ کچھ نے دلیل دی کہ اگر مرد اداکار اپنی فلموں میں اپنی فیس یا منافع میں حصہ داری کی بات چیت کر سکتے ہیں، تو خواتین اداکاروں کو ایسا کرنے پر انہیں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ دریں اثنا، ایک صحافی کی پوسٹ وائرل ہوئی، جس میں اس پورے تنازع کو "میل ایگو کرائسس" قرار دیا اور وانگا برادران کی ذہنیت پر سوال اٹھائے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دیپیکا نے اس وائرل پوسٹ کو لائک کیا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ اس ردعمل کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے اداکارہ نے پوری فلم یا پروڈیوسر کی جائیداد کا مطالبہ کر لیا ہو اور یہ کہ ایک عورت کے ذریعہ اپنی شرط رکھنے کو مردانہ انا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دیپیکا نے اس معاملے پر کوئی براہ راست بیان نہیں دیا ہے، لیکن اس پوسٹ کو لائک کرنے سے یہ خیال کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اشاروں اشاروں میں اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنازع کے درمیان فلم اور اداکارہ کے مداح اب پروڈیوسر کے جواب کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

