Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
پاکستان، ترکیہ اور سعودی دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ، بنگلہ دیش نے دیے مثبت اشارے

پاکستان، ترکیہ اور سعودی دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ، بنگلہ دیش نے دیے مثبت اشارے

ڈھاکہ، 22 اگست (ہ س)۔ بنگلہ دیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم مشترکہ دفاعی ڈھانچے میں شمولیت کے امکان پر مثبت اشارے دیے ہیں۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ ڈھاکہ قومی مفادات اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی اقتصادی یا دفاعی تعاون کے فریم ورک میں شامل ہونے کے آپشن پر غور کر سکتا ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش اپنی 'بنگلہ دیش فرسٹ' پالیسی کے تحت متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس میں قومی مفادات کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ہمایوں کبیر کے مطابق بنگلہ دیش معمول کی سفارتی سرگرمیوں کے تحت پاکستان کے ساتھ عملی دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے اقتصادی یا دفاعی تعاون سے متعلق فیصلہ قومی مفادات اور بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی و تجارتی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کشیدگی کے درمیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔یہ معاہدہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہوا ہے۔ اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا اور علاقائی امن، سلامتی و استحکام کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔معاہدے پر مکہ مکرمہ میں منعقدہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران دستخط کیے گئے، جس میں سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے معاہدے پر دستخط کے بعد اس کا موازنہ تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 میں موجود اجتماعی دفاعی نظام سے کیا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔

ترکیہ کی جانب سے اس دفاعی ڈھانچے کو مزید وسعت دینے کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔ مصر سمیت دیگر ممالک کو ممکنہ شراکت دار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 9 اگست کو کہا تھا کہ مکہ معاہدہ ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس سے پاکستان کے موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے متاثر نہیں ہوں گے۔بنگلہ دیش کی جانب سے تازہ اشاروں کے بعد مکہ دفاعی معاہدے کے ممکنہ دائرہ کار کو وسعت دینے سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو سکتی ہیں۔ تاہم ڈھاکہ نے ابھی باضابطہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے۔بنگلہ دیش کے اس مؤقف سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ابھرتے ہوئے نئے دفاعی و اسٹریٹجک تعلقات پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu