
نئی دہلی،22اگست(ہ س)۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر ایم۔ڈی۔ مہتاب عالم رضوی کے حق میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے ایک بڑے گروپ نے متحد ہوکر پولیس سے شکایت کی ہے۔ شکایت میں بھوپیندر پال سنگھ چمار، حارث الحق اور دیگر چار افراد کے خلاف مبینہ طور پر گمراہ کن اور قابل اعتراض تشہیر، جھوٹی معلومات پھیلانے، ہتکِ عزت اور رجسٹرار کی شخصی و پیشہ ورانہ شبیہ کو متاثر کرنے کی مبینہ کوششوں کی تحقیقات کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شکایت کے مطابق جامعہ کے مختلف فیکلٹیوں، شعبہ جات، مراکز اور انتظامی اکائیوں سے وابستہ سیکڑوں اساتذہ اور ملازمین نے مشترکہ درخواست پر دستخط کیے۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں ملازمین جامعہ نگر پولیس تھانے پہنچے اور متعلقہ پولیس افسران کو شکایت سونپی۔
مشترکہ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض افراد کی جانب سے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ، میسجنگ گروپس اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے یونیورسٹی انتظامیہ اور رجسٹرار کے بارے میں مبینہ طور پر گمراہ کن اور حقائق کے منافی مواد نشر کیا جا رہا ہے۔ شکایت کنندگان نے اسے یونیورسٹی کے انتظامی امور اور ادارہ جاتی ماحول کو متاثر کرنے والا سنجیدہ معاملہ قرار دیا ہے۔
شکایت میں حارث الحق کے حوالے سے بھی متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف ماضی میں بھی تادیبی کارروائی اور معطلی جیسی کارروائیاں کی گئی ہیں اور ان کے طرزِ عمل سے متعلق یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے شکایات بھی آتی رہی ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر کی تیاری تک نہیں ہو سکی ہے۔شکایت کنندگان کا الزام ہے کہ بھوپیندر پال سنگھ چمار، حارث الحق اور دیگر چار افراد کی جانب سے رجسٹرار کے خلاف مبینہ طور پر ایک منظم اور مربوط پروپیگنڈا مہم چلائی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انتظامی ضوابط کے مطابق کیے گئے فیصلوں کو غلط انداز میں پیش کرکے رجسٹرار کی ذاتی اور پیشہ ورانہ شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
مشترکہ درخواست میں رجسٹرار پروفیسر ایم۔ڈی۔ مہتاب عالم رضوی کی انتظامی خدمات اور ان کے سابقہ علمی تجربے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شکایت کنندگان کے مطابق پروفیسر رضوی بین الاقوامی تعلقات اور مغربی ایشیا کے مطالعات کے ماہر رہے ہیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مختلف اہم علمی و انتظامی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ادارہ جاتی شفافیت، ضابطوں پر مبنی انتظامیہ، مالی جواب دہی اور انتظامی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں حالیہ انتظامی اصلاحات اور قواعد و ضوابط کی پابندی کے باعث بعض عناصر مبینہ طور پر ناخوش ہوئے ہیں۔
اساتذہ اور ملازمین کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر کہا کہ بغیر تصدیق کے مبینہ طور پر جھوٹی اور بدنیتی پر مبنی معلومات پھیلانا محض کسی ایک عہدیدار کے خلاف مہم نہیں بلکہ اس سے پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جامعہ کا علمی اور انتظامی برادری رجسٹرار کے ساتھ کھڑی ہے اور ادارے کے وقار، انتظامی نظام اور کام کے ماحول کو متاثر کرنے والی کسی بھی کوشش کی جمہوری اور قانونی طریقے سے مخالفت کی جائے گی۔
پولیس کو دی گئی درخواست میں شکایت کنندگان نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات اور متعلقہ قوانین کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں مبینہ ہتکِ عزت، مجرمانہ سازش، جعلی دستاویزات کے استعمال اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔شکایت کے ساتھ مبینہ طور پر قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس، مبینہ جعلی یا غیر مجاز انتظامی دستاویزات کی نقول اور دیگر متعلقہ مواد بھی منسلک کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔
شکایت کنندگان کے مطابق جامعہ کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی بڑی تعداد کا پولیس تھانے پہنچنا یونیورسٹی برادری کے اتحاد کا اظہار ہے۔ وفد نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ شکایت میں عائد الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامی عظمت، ادارہ جاتی وقار اور مفادات کے تحفظ کے لیے اساتذہ اور ملازمین متحد ہیں اور انہیں امید ہے کہ پولیس اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے شکایت میں عائد الزامات کی منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais

