
ایشو کے ذریعے جمع شدہ رقم کے استعمال کی نگرانی اور معلومات کی فراہمی سے متعلق ضوابط کا سیبی جائزہ لے رہا ہے: توہن کانت
نئی دہلی، 22 اگست (ہ س)۔ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے چیئرمین توہن کانت پانڈے نے ہفتہ کے روز کہا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر ایشو کے ذریعے جمع کی گئی رقم کے استعمال کی نگرانی اور اس سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے متعلق ضوابط کا جائزہ لے رہا ہے۔
سیبی کے چیئرمین توہن کانت پانڈے نے یہاں انسٹی ٹیوٹ آف ڈائریکٹرز کی سالانہ ڈائریکٹرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد بر وقت معلومات کی فراہمی اور ضوابط پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توہن کانت پانڈے نے کہا کہ شفافیت کا مطلب محض کسی کمپنی کی جانب سے دی گئی معلومات کی مقدار سے نہیں ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ معلومات سرمایہ کاروں کو ضروری امور سمجھنے میں کتنی مدد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیبی نے اہم واقعات اور اطلاعات کے انکشاف (ڈسکلوزر) سے متعلق ضوابط کو مسلسل مستحکم کیا ہے۔ سیبی نے متعلقہ فریقوں کے درمیان لین دین سے متعلق قواعد کو بھی مزید واضح کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سے کمپنیوں کے لیے ضوابط واضح اور عملی ہوں گے نیز سرمایہ کاروں کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات بھی برقرار رہیں گے۔
پانڈے نے کہا کہ سیبی ایک ایسا فریم ورک لانے کی تجویز پیش کر رہا ہے جس سے ایک ہی معاملے میں ایک سے زائد اسٹاک ایکسچینجز پر لسٹڈ کمپنیوں پر متعدد اسٹاک ایکسچینجز کے ذریعے جرمانہ عائد کرنے کی دوہری کارروائی سے بچا جا سکے۔ سیبی کے سربراہ نے کہا، ''اس کا مقصد ریگولیشن کو زیادہ موثر بنانا ہے، ساتھ ہی اس کے بنیادی مقصد کو بھی برقرار رکھنا ہے۔'' ریگولیٹری تعمیل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بہتر حکمرانی (گڈ گورننس) کے لیے قواعد کا متناسب ہونا اور غیر ضروری تکرار سے بچنا بھی از حد ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

