Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ای ڈی کے ثبوت فراہم کرنے تک منی لانڈرنگ معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں ہوگی: امن اروڑہ

ای ڈی کے ثبوت فراہم کرنے تک منی لانڈرنگ معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں ہوگی: امن اروڑہ

چنڈی گڑھ، 2 ستمبر (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے پنجاب پولیس کو 'کیش فار ٹرانسفر اور لینڈ فراڈ' معاملے میں مبینہ منی لانڈرنگ کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھیجے گئے خطوط کے درمیان عام آدمی پارٹی (عآپ) پنجاب کے صدر امن اروڑہ نے بدھ کے روز کہا کہ جب تک ای ڈی پنجاب پولیس کے ساتھ ٹھوس اور واضح ثبوت شیئر نہیں کرتی، اس وقت تک ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔31 اگست کو ای ڈی کی جانب سے پنجاب پولیس کو بھیجے گئے تیسرے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اروڑہ نے الزام لگایا کہ پورا معاملہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا سیاسی بدنام کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ انہوں نے مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا بھی الزام عائد کیا۔

اروڑہ نے کہا کہ ای ڈی کی جانب سے بھیجی گئی معلومات واضح اور پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ای ڈی ان کا نام لیتی ہے، کبھی کابینی ساتھی لال چند کٹاروچک کا نام لیا جاتا ہے اور سنجیو اروڑہ کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے، لیکن ان کے مطابق ان معاملات میں اب تک کوئی ٹھوس بنیاد سامنے نہیں آئی ہے۔

ای ڈی نے پنجاب حکومت کے 28 اگست کے خط کے جواب میں بھیجے گئے خط میں پہلے فراہم کی گئی منی لانڈرنگ سے متعلق معلومات کی بنیاد پر فوری ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ اس کے پہلے خط کو بھیجے ہوئے 30 دن گزر چکے ہیں اور تاخیر سے ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ای ڈی نے پنجاب پولیس کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس میں ایف آئی آر درج کرنے سے قبل اضافی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی گئی تھی۔ای ڈی اور پنجاب پولیس کے درمیان یہ خط و کتابت رواں سال مئی کے اوائل میں نکھل گوہل سے وابستہ ٹھکانوں پر ای ڈی کی تلاشی کے بعد سامنے آئی۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ تلاشی کے دوران مبینہ 'کیش فار ٹرانسفر اور لینڈ فراڈ' نیٹ ورک سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے تھے۔اروڑہ نے کہا کہ پنجاب حکومت پہلے ہی اپنا موقف واضح کر چکی ہے کہ ای ڈی کی جانب سے واضح اور پڑھنے کے قابل ثبوت فراہم کیے جانے کے بعد ہی ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کو بھیجے گئے دستاویزات کی نقول اور اسنیپ شاٹس واضح نہیں ہیں۔اپنے خلاف ای ڈی کی تحقیقات کے حوالے سے اروڑہ نے کہا کہ ایجنسی نے ان کے دوست گورو دھیر کو نشانہ بنا کر ان تک پہنچنے کی کوشش کی۔ انہوں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھیر کے 'الٹس پروجیکٹ' سے متعلق چھ سی ایل یو 2011 سے 2022 کے درمیان منظور کیے گئے تھے، جب ریاست میں شرومنی اکالی دل-بی جے پی اور کانگریس کی حکومتیں تھیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پروجیکٹ کے لے آؤٹ پلان میں بھی دو تبدیلیاں سابقہ حکومتوں کے دور میں، جبکہ تین تبدیلیاں عاپ حکومت کے دوران کی گئیں۔ اروڑہ کے مطابق یہ تبدیلیاں قانونی طریقہ کار کے تحت کی جا سکتی ہیں۔

ای ڈی کے اس الزام کو بھی اروڑہ نے بے بنیاد قرار دیا، جس میں مبینہ طور پر ڈویلپر کی جانب سے زمین گماڈا کو واپس فروخت کرنے کو گورو دھیر کو فائدہ پہنچانے سے جوڑا گیا ہے۔ اروڑہ نے کہا کہ اس معاملے کی بنیاد بننے والی دو ایف آئی آر عدالت پہلے ہی منسوخ کر چکی ہے۔فی الحال ای ڈی اور پنجاب پولیس کے درمیان اس معاملے پر خط و کتابت جاری ہے۔ ایف آئی آر درج کرنے کے معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu