
ماسٹر پلان ہر شہر کی ضروریات کے مطابق بنائے جائیں گے : نتیش مشرا
۔ شہروں کو مقامی ضروریات کے مطابق ترقی دینے پر زور، 12 سیٹلائٹ ٹاؤن، 43 شہروں کے ماسٹر پلان پر کام تیز
پٹنہ، 2 ستمبر(ہ س)۔ بہار کے ہر شہر کے الگ الگ جغرافیائی، تاریخی اور اقتصادی حالات ہیں۔ اس لیے تمام شہروں کی ترقی کے لیے یکساں پالیسی نہیں اپنائی جا سکتی۔ مقامی ضروریات اور چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ماسٹر پلان تیار کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار شہری ترقیات ورہائش کے وزیر نتیش مشرا نے پٹنہ کے کنونشن ہال میں منعقدہ بہار کے شہروں کی پائیدار ترقی: منصوبہ بندی کے عمل اور چیلنجز کو سمجھنے پر زور کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کے افتتاح کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہیں بلکہ پوری معیشت کے فروغ کے مراکز ہیں۔ حکومت کا ایک واضح وژن ہے کہ بہار کے شہر متوازن، جامع، پائیدار اور زندگی کی آسانی کو بہتر بنانے والے ہوں۔ وزیر نے افسران اور بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ورکشاپ کو محض ایک تعلیمی مشق نہ سمجھیں بلکہ مختلف شہروں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے عملی اور موثر منصوبے بنائیں اور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے لیے ترقی یافتہ اور خوشحال بہار کو یقینی بنانے کے لیے آج کی شہری منصوبہ بندی بصیرت پر مبنی ہونی چاہیے۔
مشرا نے کہا کہ شہری ترقی کی حکمت عملی تیار کرتے وقت مقامی حالات کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔ صرف ایک شہر سے دوسرے شہر میں کامیاب ماڈل لگانے کے بجائے جغرافیائی ساخت، آبادی، معاشی سرگرمیوں، تاریخی ورثے اور دستیاب وسائل کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔انہوں نے دہلی کے ماسٹر پلان اور ملک میں شہری ترقی کے دوسرے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر موصوف نے نوجوان افسران اور منصوبہ سازوں پر زور دیا کہ وہ بہار کی شہر کاری کو ایک نئی سمت دینے کے لیے اپنی پوری صلاحیت اور عزم کا استعمال کریں۔شہری ترقی اور رہائش محکمہ کے پرنسپل سکریٹری مسٹر ونے کمار نے کہا کہ بہار میں منصوبہ بند اور پائیدار شہری ترقی کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالو جی اور جی آئی ایس پر مبنی منصوبہ بندی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ حکام کو ثبوت پر مبنی منصوبہ بندی اور ماسٹر پلان تیار کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے جو قدرتی وسائل کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہیں۔
ورکشاپ میں بتایا گیا کہ ریاست میں 12 نئے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ تیار کرنے کا کام جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے ہڈکو کے ساتھ 1 لاکھ کروڑ کا لائن آف کریڈٹ معاہدہ کیا گیا ہے۔وہیں ریاست کے 43 شہروں کے لیے ماسٹر پلان تیار کیے جا رہے ہیں۔دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر این شرون کمار نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بہار ملک کی سب سے کم شہری آبادی والی ریاستوں میں شامل ہے۔ تاہم، اقتصادی ترقی اور روزگار کے بہتر مواقع کے لیے شہری کاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔دہلی اور جمشید پور کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر منصوبہ بند ترقی کے بعد شہروں کو دوبارہ تیار کرنا بہت مہنگا اور مشکل ہے۔ اس لیے منصوبہ بند ترقی پر شروع سے ہی زور دیا جانا چاہیے۔ مقامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرکے شہروں کو مزید رہنے کے قابل بنانے کے لیے کام کیا جائے، تاکہ لوگوں کو بہتر مواقع کے لیے نقل مکانی نہ کرنا پڑے۔
ہڈکو کے سی ایم ڈی مسٹر سنجے کلشریسٹھا نے کہا کہ ملک میں شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور 2040 تک شہری آبادی تقریباً دوگنی ہو کر 80 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس لیے، مستقبل کے شہروں کو پھیلانا ہی کافی نہیں ہوگا۔ انہیں موسمیاتی تبدیلیوں اور آفات کے لحاظ سے بھی مضبوط کر نا ہو گا۔امرت سٹی، سوچھ بھارت ابھیان، پردھان منتری آواس یوجنا-2، اور اربن چیلنج فنڈ جیسی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ پانی کی فراہمی، سیوریج، صفائی ستھرائی، کھیل کے میدانوں اور اسٹیڈیم جیسے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں۔ امراوتی، نیو ناگپور اور حیدرآباد جیسے شہروں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے بہار میں جدید، جامع اور پائیدار شہری ترقی کا ماڈل تیار کیا جا سکتا ہے۔
محکمہ کے سکریٹری مسٹر سندیپ کمار آر پڈوکلکٹی، ایڈیشنل سکریٹری مسٹر منوج، بہار ہاؤسنگ بورڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر اور محکمہ کے اسپیشل سکریٹری مسٹر نیلیش رام چندر دیورے اور مسٹر نول کشور چودھری، بہار اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈکے منیجنگ ڈائریکٹر اور محکمہ کے سکریٹری مسٹر انیمیش کمار ،ہڈکو کی گارگزار ڈائریکٹر مسز ورشا پنہانی سمیت مختلف بلدیاتی اداروں کے افسران ، اربن پلانرس اور آرکیٹیکس موجودتھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan

