
نئی دہلی، 02 ستمبر (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے چیئرمین منن کمار مشرا کی مدتِ کار کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے بی سی آئی کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی پالیسی فیصلے میں اٹارنی جنرل (اے جی) اور سالیسٹر جنرل (ایس جی) کو فعال طور پر شامل کرے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے خلاف کوئی منفی حکم جاری نہیں کیا، تاہم کہا کہ آپ ایک منتخب چیئرمین کی طرح کام نہیں کر سکتے بلکہ آپ صرف ایک پروٹیم چیئرمین ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ منن کمار مشرا کی مدتِ کار اگلے انتخابات تک عارضی انتظام کے طور پر ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ تمام ریاستی بار کونسلوں کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد ہی بی سی آئی کی ازسرنو تشکیل پر غور کرے گا۔ عدالت نے تمام ریاستی بار کونسلوں کے انتخابی عمل کو مکمل کرنے کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔ سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز سے کہا کہ ریاستی بار کونسلوں میں دو خواتین وکلا کو شامل کرنے کا عمل دو ہفتوں کے اندر مکمل کیا جائے۔ اس کے ایک ہفتے کے اندر تمام بار کونسلیں ازسرنو تشکیل شدہ کونسل کو نوٹیفائی کریں۔ نوٹیفکیشن کے تین ہفتوں کے اندر ریاستی بار کونسلیں اپنے عہدیداروں کے انتخابات مکمل کریں۔
منن کمار مشرا کی مدتِ کار کو چیلنج کرنے والی دو عرضیوں پر سپریم کورٹ نے بدھ کو سماعت کی۔ ایک عرضی ایم وردھن نے جبکہ دوسری یوگ مایا ایم جی نے دائر کی ہے۔ ان عرضیوں میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے طویل عرصے تک عہدے پر برقرار رہنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ منن کمار مشرا پہلی مرتبہ 2012 میں بی سی آئی کے چیئرمین بنے تھے اور مارچ 2025 میں انہیں دوبارہ بلا مقابلہ منتخب کیا گیا۔ عرضی گزاروں کے مطابق یہ منن کمار مشرا کی مسلسل ساتویں مدتِ کار ہے۔ عرضی میں بی سی آئی کی جانب سے اپریل 2025 میں اعلان کردہ پانچ سالہ مدتِ کار کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ بی سی آئی رولز کے رول 12(2) کے تحت چیئرمین اور نائب چیئرمین کے لیے دو سال کی مدتِ کار یا رکنیت ختم ہونے تک کی مدت مقرر ہے۔ عرضی کے مطابق کوئی انتظامی نوٹیفکیشن قواعد میں مقررہ مدت سے زیادہ عہدے کی مدت میں توسیع نہیں کر سکتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

