علی گڑھ, 02 ستمبر (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات، فیکلٹی آف آرٹس کے زیر اہتمام ذرائع ابلاغ، فلم اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز میں کثیر لسانیت کے بڑھتے ہوئے کردار کے موضوع پر ایک خصوصی خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ اس خصوصی پروگرام میں سڈنی، آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے آزاد محقق چارلس ایس تھامسن نے بطور مقرر شرکت کی۔
خصوصی خطبے کا موضوع ''ذرائع ابلاغ، فلم اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز میں کثیر لسانیت: مواقع، چیلنجز اور نئے امکانات'' تھا۔ اپنے خطاب میں چارلس ایس تھامسن نے موجودہ دور میں کثیر لسانیت کی اہمیت اور ابلاغی ذرائع میں اس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ایک سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل کرنا کسی بھی فرد کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے مادری اور علاقائی زبانوں کو سیکھنے اور ان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اپنے گھروں میں مادری زبانوں کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے۔
اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے چارلس ایس تھامسن نے بتایا کہ مختلف زبانوں، بالخصوص ہندی زبان سیکھنے سے ان کے پیشہ ورانہ سفر میں نمایاں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ زبانوں کی معلومات نے انہیں مختلف معاشروں اور لوگوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے مادری زبانوں کے استعمال اور مختلف لسانی برادریوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
شعبہ لسانیات کے چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی نے مہمان مقرر اور شرکاء کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے چارلس ایس تھامسن کا تعارف کراتے ہوئے نالندہ ادبی میلے کے دوران ان سے ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔
پروفیسر وارثی نے ہندوستان کے کثیر لسانی مزاج اور لسانی تنوع کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مختلف زبانیں، ادب اور ثقافتی روایات ہندوستان کی ایک بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی میں مادری زبان کے ساتھ دیگر ہندوستانی زبانوں کے سیکھنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان بنیادی طور پر ایک کثیر لسانی معاشرہ ہے اور مختلف زبانوں کا فروغ نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ میں مددگار ہے بلکہ قومی یکجہتی اور باہمی سمجھ بوجھ کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے ''ایک بھارت، شریشٹھ بھارت'' کے تصور کو فروغ دینے میں مختلف ہندوستانی زبانوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان نے خصوصی خطبے کے انعقاد پر شعبہ لسانیات کے چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی کو مبارکباد دی اور ممتاز مقرر کو یونیورسٹی مدعو کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کثیر لسانیت کی جڑیں بہت گہری ہیں اور حکومت کی جانب سے علاقائی اور ہندوستانی زبانوں کے فروغ کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پروفیسر رضوان خان نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 لسانی شمولیت، ثقافتی تفہیم اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے شعبہ لسانیات کی جانب سے طلبہ اور محققین کے لیے معروف ماہرین اور ممتاز شخصیات کے خصوصی خطبات کے انعقاد کو ایک مثبت قدم قرار دیا۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود رہی۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شمیم فاطمہ نے کی، جبکہ ڈاکٹر نعمان طاہر نے آخر میں مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ
