
نئی دہلی، 02 ستمبر (ہ س)۔
دہلی ہائی کورٹ نے ڈیگا میں واقع اولڈ وشاکھاپٹنم ایئرپورٹ کو بند کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ چونکہ اس معاملے کا بنیادی دائرہ اختیار آندھرا پردیش ہے، اس لیے عرضی گزار کو متعلقہ دائرہ اختیار والی ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
عرضی میں ڈیگا میں واقع اولڈ وشاکھاپٹنم ایئرپورٹ کو بند کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا، کیونکہ اس کے کمرشل آپریشنز نیو الوری سیتارام راجو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منتقل کر دیے گئے تھے۔ یہ عرضی گوپال کرشنا کوساراجو نے دائر کی تھی۔
ڈیگا میں واقع اولڈ وشاکھاپٹنم ایئرپورٹ سے دہائیوں سے کمرشل فلائٹس کا انتظام چلایا جا رہا تھا، لیکن اگست کے مہینے میں ان کارروائیوں کو روک دیا گیا۔ یکم اگست کو نیو الوری سیتارام راجو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا باضابطہ افتتاح کیا گیا، جس کے فوراً بعد سے اولڈ وشاکھاپٹنم ایئرپورٹ سے تمام تر کمرشل آپریشنز بند کر دیے گئے۔ بعد ازاں تمام مسافر پروازیں بھی سیتارام راجو ایئرپورٹ منتقل کر دی گئیں۔ اب ڈیگا میں واقع پرانے ایئرپورٹ سے صرف نان شیڈولڈ اور فوجی پروازیں ہی چلائی جاتی ہیں۔
عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نئے ایئرپورٹ تک آمد و رفت اور رابطے (کنیکٹیویٹی) کا شدید فقدان ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام تر مشکلات وشاکھاپٹنم سے متعلق ہیں اور عرضی گزار کو اس معاملے کے متعلقہ دائرہ اختیار والی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

