
نئی دہلی، 02 ستمبر (ہ س)۔
دہلی پولیس کی جانب سے سحر خیزی کے دوران نہرو پارک سے پوچھ گچھ کے لیے لے جائے جانے اور دن بھر ان کے ٹھکانے کو لے کر جاری سسپنس کے بعد سابق بیوروکریٹ آشیش جوشی بدھ کی دیر شام اپنے گھر واپس لوٹ آئے۔ جوشی نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل انہیں گھر چھوڑ کر گئی ہے اور پورے واقعے کی تفصیلی معلومات وہ بعد میں شیئر کریں گے۔
جوشی نے ایکس پر لکھا، "ابھی ابھی گھر واپس آیا ہوں۔ دہلی اسپیشل سیل مجھے گھر چھوڑ کر گئی۔ تفصیلی معلومات بعد میں دوں گا۔"
اس سے قبل دن بھر جوشی کے ٹھکانے کو لے کر سیاسی حلقوں میں ہلچل رہی۔ کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے دعویٰ کیا تھا کہ صبح نہرو پارک میں سیر کے دوران دو پولیس اہلکار جوشی کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس کے بعد ان کا فون بند ہو گیا اور طویل وقت تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی۔
کانگریس لیڈروں نے اس واقعے پر سوال اٹھاتے ہوئے دہلی پولیس سے جوشی کے ٹھکانے کی معلومات دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ سندیپ دکشت اور دیگر لیڈروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس کے سلسلے میں انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے بھی 'ایکس' پر دعویٰ کیا تھا کہ جوشی کو سادہ لباس میں موجود دہلی پولیس کے دو اہلکار اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل رہی ہے۔
تاہم، دہلی پولیس کے ذرائع نے دیر شام تسلیم کیا کہ آشیش جوشی کو پولیس پوچھ گچھ کے لیے لائی تھی۔ ذرائع کے مطابق، ان سے ایک پرانے معاملے میں پوچھ گچھ کی گئی اور اس کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے تاہم اس معاملے کے حوالے سے تفصیلی معلومات عام نہیں کی گئی ہیں۔
جوشی کے گھر واپس آنے اور خود سوشل میڈیا پر اس کی تصدیق کرنے کے بعد دن بھر جاری سسپنس ختم ہو گیا ہے۔ تاہم، اب سب کی نظریں ان کے اس تفصیلی بیان پر ہیں، جس میں وہ بتا سکتے ہیں کہ انہیں کس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا اور دن بھر ان کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے۔
آشیش جوشی اسی سال مارچ میں ایڈیشنل سکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی مختلف حکومتوں کے ساتھ اختلافات کو لے کر خبروں میں رہے ہیں۔ سال 2015 میں انہوں نے عام آدمی پارٹی اور 2019 میں بی جے پی لیڈر کپل مشرا کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

