
نئی دہلی، 02 ستمبر (ہ س)۔
دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے وقف بورڈ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کے ملزم داؤد ناصر کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اسپیشل جج روبی نیرج کمار نے داؤد ناصر کو یکم اکتوبر سے 25 اکتوبر تک بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی ہے۔
عدالت نے داؤد ناصر کو پانچ لاکھ روپے کی بینک گارنٹی یا فکسڈ ڈپازٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ داؤد ناصر نے ابوظہبی، متحدہ عرب امارات، استنبول اور ترکی جانے کی اجازت مانگی تھی۔
19 جنوری 2024 کو عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے دائر کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔ ای ڈی نے 9 جنوری 2024 کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔ تقریباً پانچ ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں ای ڈی نے جن افراد کو ملزم بنایا ہے، ان میں جاوید امام صدیقی، داؤد ناصر، کوثر امام صدیقی اور ذیشان حیدر شامل ہیں۔ ای ڈی نے پارٹنرشپ فرم اسکائی پاور کو بھی ملزم بنایا ہے۔
ای ڈی کے مطابق یہ معاملہ 13 کروڑ 40 لاکھ روپے کی زمین کی فروخت سے متعلق ہے۔ ای ڈی کے مطابق عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے نامعلوم ذرائع سے حاصل شدہ رقم سے زمینیں خریدی اور فروخت کی گئی تھیں۔ ملزم کوثر امام صدیقی کی ڈائری میں 8 کروڑ روپے کی انٹری درج ہے۔ جاوید امام کو یہ جائیداد سیل ڈیڈ کے ذریعے حاصل ہوئی تھی۔ جاوید امام نے یہ جائیداد 13 کروڑ 40 لاکھ روپے میں فروخت کی۔ ذیشان حیدر نے اس کے لیے جاوید کو نقد رقم دی۔
اس معاملے میں اس سے قبل مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے کیس درج کیا تھا۔ سی بی آئی کی جانب سے درج کیس میں امانت اللہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں 23 نومبر 2016 کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ تحقیقات کے بعد سی بی آئی نے 21 اگست 2022 کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔
سی بی آئی کے مطابق دہلی وقف بورڈ کے سی ای او اور معاہدے پر کی جانے والی دیگر تقرریوں میں بے ضابطگیاں کی گئی تھیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

