
نئی دہلی، 9 اکتوبر (ہ س)۔ محض 17 سال کی عمر میں ایشیائی کھیلوں میں تاریخ رقم کرنے والی بھارتی تیر انداز کم کم موہود کی نظریں اب 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس پر ہیں۔ خواتین کے انفرادی ریکرو مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتنے والی کم کم نے کہا کہ ان کا ہدف اولمپکس میں انفرادی اور ٹیم دونوں مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے انہیں اپنی تکنیک، جسمانی طاقت اور ذہنی مضبوطی پر مسلسل کام کرنا ہوگا۔
مہاراشٹر کے امراوتی کی رہنے والی کم کم نے ایشیائی کھیلوں میں دو سونا اور ایک چاندی کے تمغے سمیت مجموعی طور پر تین تمغے جیتے۔ انہوں نے خواتین کے انفرادی ریکرو مقابلے کے فائنل میں جنوبی کوریا کی اوہ یے۔جن کو شوٹ آف میں شکست دے کر سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ وہ ایشیائی کھیلوں کی تاریخ میں خواتین کے انفرادی ریکرو مقابلے میں طلائی تمغہ جیتنے والی پہلی بھارتی کھلاڑی بن گئیں۔ انہوں نے خواتین کے ٹیم مقابلے میں بھی سونا اور مکسڈ ٹیم مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا۔
بھارتی اسپورٹس اتھارٹی (سائی) کی جانب سے جمعہ کو منعقدہ ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں کم کم نے کہا کہ ایشیائی کھیلوں میں کامیابی سے بھارتی تیر اندازوں کا اعتماد بڑھے گا۔
انہوں نے کہا، ''جنوبی کوریا کو شکست دینا بھی اہم تھا۔ اب تک انفرادی مقابلے میں ایسا تمغہ نہیں ملا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ اس تمغے کے بعد آئندہ مقابلوں میں بھارت کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی، کیونکہ کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھا ہے۔''
لاس اینجلس اولمپکس میں جگہ بنانے اور تمغہ جیتنے کا ہدف
لاس اینجلس اولمپکس میں جگہ بنانے اور تمغہ جیتنے کے ہدف کے بارے میں کم کم نے کہا کہ وہ انتخاب کے حوالے سے غیر ضروری دباؤ نہیں لینا چاہتیں۔ ان کی توجہ اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق کارکردگی پیش کرنے پر ہے۔
انہوں نے کہا، ''اگر میں محنت کروں گی تو اولمپکس میں جاؤں گی۔ مجھے صرف اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنی ہے۔ اگر میں اپنے ذہن میں یہ بٹھا لوں کہ ہر حال میں میرا انتخاب ہونا ہی چاہیے، تو مشکلات بڑھ جائیں گی۔ اگر میں پرسکون رہ کر اور بغیر دباؤ کے کھیلوں گی تو میرا انتخاب بھی ہوگا اور میں تمغہ بھی جیتوں گی۔''
کم کم نے بتایا کہ ایشیائی کھیلوں کے بعد ان کی توجہ تکنیک بہتر بنانے، جسمانی طاقت بڑھانے اور ذہنی طور پر مزید مضبوط ہونے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیر اندازی میں باقاعدہ مشق انتہائی ضروری ہے۔ دو سے تین دن تک مشق نہ کرنے سے ہاتھ میں کپکپاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے اور نشانے پر قابو متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے وہ روزانہ اپنی طاقت اور تکنیک کو بہتر بنانے پر کام کرنا چاہتی ہیں۔
دھیرج بومادیورا کو اپنا آئیڈیل مانتی ہیں کم کم
کم کم نے بھارتی تیر انداز دھیرج بومادیورا کو اپنا آئیڈیل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دھیرج کا نظم و ضبط اور مسلسل اچھی کارکردگی ان کے لیے سیکھنے کے قابل ہے۔ مکسڈ ٹیم مقابلے میں دھیرج کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیتنے کے تجربے کو بھی انہوں نے خاص قرار دیا۔
کم کم کے مطابق، دھیرج نے انہیں مقابلے کے دوران نتیجے کی فکر کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے پیغام دیا تھا کہ سامنے کون ہے، اس پر توجہ دینے کے بجائے خود پر بھروسا رکھیں اور چیمپئن کی طرح کھیلیں۔
مکسڈ ٹیم مقابلے میں طلائی تمغہ نہ جیت پانے کے بارے میں کم کم نے تسلیم کیا کہ نشانہ لگانے میں کچھ خامیاں رہ گئی تھیں، لیکن انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ دھیرج کے ساتھ کھیلنے سے انہیں دباؤ کم محسوس ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دھیرج نے انہیں میچ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی ترغیب دی۔
والدین کی حوصلہ افزائی کامیابی کی اہم وجہ
کم کم نے اپنی کامیابی میں خاندان کے تعاون کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی دنوں میں جب ان کی کارکردگی اچھی نہیں تھی، تب بھی ان کے والدین نے کبھی انہیں تیر اندازی چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ اس کے بجائے وہ مسلسل ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
انہوں نے کہا، ''میرے والدین نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا ہے۔ جب میں اچھی کارکردگی پیش نہیں کر رہی تھی، تب بھی انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ کھیل چھوڑ دو۔ میرے والد آج بھی کہتے ہیں کہ کم کم، تم ہی اولمپکس میں تاریخ رقم کرو گی۔ ان کی حوصلہ افزائی میرے لیے بہت اہم ہے۔''
کم کم نے بتایا کہ ان کی والدہ نے امراوتی کی ایک تیر انداز اُنّتی کو دیکھ کر انہیں اس کھیل سے وابستہ ہونے کی ترغیب دی تھی۔ انہوں نے تقریباً آٹھ سے نو سال کی عمر میں تیر اندازی شروع کی اور چھ ماہ کے اندر ہی اس کھیل میں ان کی دلچسپی بڑھ گئی۔
انہوں نے امراوتی میں دستیاب تربیتی سہولتوں اور قومی سطح پر تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کو کھیلوں کے آلات فراہم کرنے والی اسکیم کو بھی مفید قرار دیا۔
امراوتی میں شاندار استقبال پر خوشی کا اظہار
ایشیائی کھیلوں میں تمغے جیتنے کے بعد امراوتی میں اپنے استقبال کو یاد کرتے ہوئے کم کم نے کہا کہ یہ ان کے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ شہر میں ان کے اعزاز میں ریلی نکالی گئی اور مختلف مقامات پر پوسٹر لگائے گئے۔ حکام اور مقامی لوگوں نے بھی ان کا استقبال کیا۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ''پہلے ہم کسی دوسرے کے ساتھ تصویر کھنچواتے تھے، لیکن اب لوگ ہمارے ساتھ تصویر کھنچوانا چاہتے ہیں۔ یہ بہت اچھا لگتا ہے اور فخر محسوس ہوتا ہے۔''
اپنے فارغ وقت کے بارے میں کم کم نے بتایا کہ انہیں گانے سننا اور کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ وہ کبھی کبھار فلمیں بھی دیکھتی ہیں۔
انہوں نے بھارتی پیرا تیر اندازوں شیتل دیوی اور پایل ناگ کی بھی تعریف کی۔ کم کم نے کہا کہ جسمانی چیلنجز کے باوجود بین الاقوامی سطح پر ان کی کارکردگی اور ذہنی مضبوطی دوسروں کے لیے باعثِ تحریک ہے۔
کم کم نے کہا کہ شائقین ان سے لاس اینجلس اولمپکس میں انفرادی اور ٹیم مقابلوں میں سونے کے تمغوں کی امید رکھ سکتے ہیں، لیکن ان کی اپنی توجہ محنت کرنے اور بہترین کارکردگی پیش کرنے پر رہے گی۔
ان کے لیے ایشیائی کھیلوں میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی منزل نہیں، بلکہ اولمپکس کے بڑے ہدف کی جانب بڑھنے کا آغاز ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

