Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
بھارت کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا: جیوتی رادتیہ سندھیا

بھارت کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا: جیوتی رادتیہ سندھیا

نئی دہلی، 9 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر مواصلات جیوتی رادتیہ سندھیا نے جمعہ کو کہا کہ بھارت کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے بتایا کہ سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے تین کمپنیوں کو لائسنس مل چکے ہیں۔ یہ کمپنیاں سلامتی سے متعلق تقاضوں اور مقررہ معیارات کو پورا کرنے کے بعد اپنی خدمات شروع کر سکتی ہیں۔

نئی دہلی کے یشوبھومی میں منعقدہ انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی) 2026 کے دسویں ایڈیشن کے دوران پریس کانفرنس میں سندھیا نے امریکی صنعت کار ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کی خدمات سے متعلق سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ''خاص'' کمپنی کے بارے میں کافی چرچا ہو رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تین کمپنیوں کو سیٹلائٹ مواصلات (سیٹ کام) کے لائسنس مل چکے ہیں۔ یہ کمپنیاں سلامتی سے متعلق شرائط اور مقررہ تقاضوں کو الگ الگ پورا کرنے کے بعد اپنی خدمات شروع کر سکتی ہیں۔

سندھیا نے بتایا کہ ایلون مسک کی اسٹارلنک، ریلائنس جیو کی سیٹلائٹ سروس یونٹ جیو سیٹ کام اور بھارتی ایئرٹیل کی حمایت یافتہ یوٹیل سیٹ ون ویب کو لائسنس مل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمیزون کی کوئپر نے بھی اس شعبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اسے بھی مقررہ طریقۂ کار سے گزرنا ہوگا۔

جیوتی رادتیہ سندھیا نے کہا، ''ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ تین کمپنیوں کو لائسنس مل چکے ہیں۔ حکومت جب آمدنی پر مبنی فیس کا نظام طے کر دے گی، تب انہیں اسپیکٹرم الاٹ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جب وہ سلامتی سے متعلق الگ الگ شرائط پوری کر لیں گی تو اپنی خدمات شروع کر سکتی ہیں۔''

اسپیکٹرم کی قیمتوں کے تعین کا عمل آخری مرحلے میں

مرکزی وزیر مواصلات نے کہا کہ بھارتی ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) اور محکمۂ ٹیلی مواصلات سیٹلائٹ مواصلاتی اسپیکٹرم کی قیمتوں کے تعین کے نظام پر حتمی فیصلے کے قریب ہیں۔

راہل گاندھی اور ایلون مسک کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ہونے والی گفتگو کے پس منظر میں کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ابتدا میں کانگریس کو ایک خاص شخص کو لائسنس دیے جانے پر اعتراض تھا، لیکن اب اسے اس بات پر اعتراض ہے کہ اسی شخص کو لائسنس کیوں نہیں مل رہا۔

سندھیا نے کہا، ''اب وہ اسی شخص کے ساتھ مل کر سوال اٹھا رہے ہیں کہ اسے لائسنس کیوں نہیں مل رہا۔ اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ کانگریس خود اس بارے میں واضح ہے یا نہیں کہ وہ کس سمت میں جا رہی ہے، لیکن کانگریس کے ساتھ ایسا ہونا متوقع ہے۔''

اسٹارلنک کی خدمات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات مسترد

دراصل، ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ بااثر کاروباری گروپ ان کی کمپنی اسٹارلنک کی سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات شروع ہونے سے روک رہے ہیں۔ مسک نے الزام لگایا تھا کہ یہ گروپ ''بھارتی عوام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔''

اس معاملے پر مرکزی وزیر نے کہا کہ ان کا محکمہ ٹیکنالوجی کے معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ حکومت کا کام ہر صارف کو خدمات کے وسیع متبادل فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلی منڈی میں صارف کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کون سی سروس پسند کرتا ہے اور دستیاب متبادل میں سے کس کمپنی کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اس معاملے پر جمعرات کو حکومتِ ہند اور ایلون مسک کے درمیان سخت بیان بازی بھی ہوئی تھی۔ محکمۂ ٹیلی مواصلات نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ مقامی کاروباری مفادات کے باعث اسٹارلنک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات شروع ہونے سے روکی جا رہی ہیں۔

اس کے بعد ٹیکنالوجی کے شعبے کے ارب پتی صنعت کار ایلون مسک نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا ''امبانی ہی بھارت کے اصل باس ہیں؟''

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu