Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
دہلی حکومت نے 1,000 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو منظوری دی، 12 نئے سیوریج پلانٹ لگائے جائیں گے

دہلی حکومت نے 1,000 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو منظوری دی، 12 نئے سیوریج پلانٹ لگائے جائیں گے

نئی دہلی، 24 مئی (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دہلی کے پانی کے انتظام، سیوریج ٹریٹمنٹ اور پانی کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے 1,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے مختلف پروجیکٹوںکو منظوری دی ہے۔

اتوار کو وزیر اعلیٰ کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، نجف گڑھ کے علاقے میں 12 نئے ڈی سینٹرلائزڈ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ڈی ایس ٹی پی) کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔ تقریباً 860 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے جانے والے ان پلانٹس کی کل صلاحیت 46.5 ایم جی ڈی ہوگی اور انہیں مرکزی حکومت کی اے ایم آر یو ٹی اسکیم کے تحت تیار کیا جائے گا۔ ایک 17 ایم جی ڈی ڈی ایس ٹی پی متراوں میں بنایا جائے گا۔ مزید برآں، چار ڈی ایس ٹی پیز کیر، کنگن ہیڑی، ککرولا اور دچاوں کلاں، تین غالب پور، سارنگ پور اور شکارپور میں اور چار حسن پور، جعفر پور، قاضی پور اور کھیڑا ڈابر میں لگائے جائیں گے۔ ان منصوبوں سے 121 غیر مجاز کالونیوں، 35 دیہاتوں اور تقریباً 700,000 لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ مزید برآں، بغیر ٹریٹ کیے گئے گندے پانی کو نجف گڑھ نالے میں داخل ہونے سے روکا جائے گا، اس طرح یمنا کی صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملے گا۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ کیشو پور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے پہلے مرحلے کو اپ گریڈ اور توسیع دی جائے گی، جس سے پلانٹ کی صلاحیت 12 ایم جی ڈی سے بڑھ کر 18 ایم جی ڈی ہوجائے گی۔ یہ پروجیکٹ، تقریباً 122 کروڑ روپے کی لاگت سے، یہ یقینی بنائے گا کہ ٹریٹ شدہ پانی کا معیار جدید ترین معیارات پر پورا اتررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں 11 سالہ آپریشن اور مینٹی نینس (او اینڈ ایم) منصوبہ بھی شامل ہوگا۔ اس سے ری سائیکل شدہ پانی کے استعمال کو فروغ ملے گا اور پانی کے تحفظ کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے اور پانی کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی جل بورڈ اب بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نئے ڈھانچے تعمیر کرے گا اور مختلف محکموں کی جانب سے موجودہ ڈھانچے کی بحالی کرے گا۔ اس اقدام کو موثر بنانے کے لیے زمینی پانی کے چار ماہرین اور رین واٹر ہارویسٹنگ کے دس سوشل موبلائزرز بھی مقرر کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ترلوک پوری اسمبلی حلقہ میں امی چند چوک سے پرانے کلیان پوری سیوریج پمپنگ اسٹیشن تک بڑی ٹرنک سیوریج لائن کو تقریباً 57 کروڑ روپے کی لاگت سے بحال کیا جائے گا۔ یہ لائن 40 سال سے زیادہ پرانی ہے اور اس میں کئی سالوں سے دھنساو اور تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ نئے منصوبے کی تکمیل سے علاقے کا سیوریج سسٹم زیادہ محفوظ، قابل اعتماد اور موثر ہو جائے گا۔ مزید برآں، شاہدرہ اسمبلی حلقہ کے روہتاس نگر میں ایک نیا 0.72 ایم جی ڈی انڈر گراو¿نڈ ریزروائر (یو جی آر) اور بوسٹر پمپنگ اسٹیشن نصب کیا جائے گا۔ یہ پروجیکٹ، تقریباً 27 کروڑ روپے کی لاگت سے، مقامی پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط کرے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu