
کولکاتا، 20 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد، تقریباً 1,100 لیڈروں، سابق وزرا اور بااثر افراد کو فراہم کی گئی سیکورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اب اسے مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ قدم ریاستی انتظامیہ کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد 'ایکس'، 'وائی'، 'وائی پلس' اور' زیڈ' زمرے کی سیکیورٹی حاصل کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق ترنمول کانگریس کے کل 175 لیڈروں کو درجہ بند سیکورٹی ملی تھی، جب کہ تقریباً 900 کو غیردرجہ بند سیکورٹی فراہم کی جا رہی تھی ۔ ان میں جنوبی 24 پرگنہ کے ترنمول لیڈر شوکت ملا کو "زیڈ" زمرہ کی سیکورٹی، فالٹا ترنمول کے امیدوار جہانگیر خان کو"وائی پلس" سیکورٹی اور ڈائمنڈ ہاربر بلاک یوتھ ترنمول کے صدر گوتم ادھیکاری کو بھی "وائی پلس " سیکورٹی ملی ہوئی تھی۔
ایک پولیس افسر کے مطابق، سیکورٹی کا تعین 'خطرے کے ادراک' کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
جہاں 'ایکس ' زمرہ میں، ایک مسلح سیکورٹی گارڈ ہمیشہ تعینات ہوتا ہے، جس میں تین اہلکار تعینات ہوتے ہیں ، وہیں "وائی " کیٹیگری میں، دو مسلح سیکورٹی گارڈز تعینات رہتے ہیں، مجموعی طور پر تقریباً چھ اہلکاروں کا بندوبست ہوتا ہے۔"وائی پلس" کیٹیگری میں دو مسلح گارڈز کے ساتھ ایک موبائل سیکورٹی ٹیم بھی تعینات ہوتی ہے۔"زیڈ" کیٹیگری میں، دو مسلح گارڈز ، گھر پر سیکورٹی اور نقل و حرکت کے لیے ایک موبائل سیکورٹی ٹیم، کل تقریباً 14 اہلکار تعینات رہتے ہیں۔جبکہ "زیڈ پلس" زمرے میں اعلی ترین سیکورٹی ہوتی ہے، جس میں تقریباً 40 پولیس اہلکار تعینات کئے جاتے ہیں جو اس وقت سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو حاصل ہے۔
اسٹیٹ سیکورٹی ریویو کمیٹی فیصلہ کرتی ہے کہ سیکورٹی کیٹیگری کس کو تفویض یا منسوخ کی جائے گی۔ اس کمیٹی میں چیف سکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، ڈائریکٹر سیکورٹی اور انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ کی سطح پر سفارشات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق وزراء سوپن دیبناتھ، ملے گھٹک اور اُدین گوہا سمیت کئی لیڈروں کی سیکورٹی کم کر دی گئی ہے۔ اسکے ساتھ ہی جن افسران کو اضافی سیکورٹی فراہم کی گئی تھی، ان کے سیکورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انتظامی طور پر کہا جا رہا ہے کہ مستقبل میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل، کولکاتا پولیس کمشنر، چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری اور وزیراعلی کے چیف ایڈوائزر جیسے محدود تعداد میں عہدیداروں کو ہی خصوصی سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے سے بڑی تعداد میں رہنماؤں کو سیکورٹی فراہم کرنے سے پولیس فورس پر بہت زیادہ دباؤ پڑ رہا تھا، جس سے امن و امان اور عوامی تحفظ متاثر ہو رہا تھا۔ نیا نظام پولیس کے وسائل کے بہتر استعمال کے قابل بنائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

