
شملہ، 22 اگست (ہ س)۔ اس سال ہماچل پردیش میں شدید بارش اور قدرتی آفات نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ پچھلے پانچ مہینوں کے دوران ریاست میں اوسطاً 109.80 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران بادل پھٹنے کے تین واقعات کی بھی اطلاعات ہیں۔ قدرتی آفات نے جان و مال، مکانات، سڑکوں، پلوں، پینے کے پانی کی اسکیموں، بجلی کے نظام اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ معلومات ریونیو منسٹر جگت سنگھ نیگی نے ہفتہ کو اسمبلی میں بی جے پی ایم ایل اے وپن سنگھ پرمار کے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔
ریونیووزیر نے بتایا کہ 1 اگست 2026 تک ریاست میں 1,871 متاثرہ خاندانوں میں امدادی رقوم تقسیم کی جا چکی ہیں، جبکہ 1,260 متاثرہ خاندانوں کو ابھی تک معاوضہ نہیں ملا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیر التوامعاملوں میں زیادہ تر متاثرہ خاندانوں نے آر ایم ایس پورٹل پر امداد کے لیے درخواست نہیں دی ہے۔ کچھ معاملات میں، درخواستیں نامکمل ہیں۔ ضروری رسمی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد، اہل خاندانوں کو قواعد کے مطابق امدادی رقوم فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بادل پھٹنے کے تین واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ ایک کلو ضلع کی بھونتر تحصیل کے سیوا ڈگ علاقے میں پیش آیا، جب کہ دو دیگر لاہل ا سپتی ضلع کے شوگو کھنگسر اور ڈونڈل نالہ کرپٹ میں ہوئے۔ ان واقعات میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
ریونیووزیر کے مطابق، سرمور ضلع میں اس سال قدرتی آفات سے سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں، جن کی تعداد 87 تھی۔ لاہول اسپیتی میں 16، سولن میں چار، منڈی میں دو اور کانگڑا اور کلّو میں ایک ایک اموات سمیت ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 111 ہو گئی۔ کانگڑا ضلع میں پانچ خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شدید بارش کی وجہ سے ریاست میں 12 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ان میں سب سے زیادہ لاہول اسپیتی میں چار پلوں کو نقصان پہنچا۔ کنور اور سولن کو تین تین، جبکہ چمبہ اور شملہ کو ایک ایک پل کو نقصان پہنچا۔
مکانات کو پہنچنے والے نقصان کے لحاظ سے سولن ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 239 مکانات کو نقصان پہنچا۔ کانگڑا میں 155، منڈی میں 136، چمبہ میں 89، شملہ میں 50، سرمور میں 33، کلّو میں 21، ہمیر پور میں 14، اونا میں 12، بلاس پور میں نو اور کنور میں آٹھ مکانات کو نقصان پہنچا۔
بارش سے ریاست کے تمام اضلاع میں سڑکوں کا نیٹ ورک بھی متاثر ہوا۔ کانگڑا میں سب سے زیادہ 736 سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ منڈی 615، شملہ 614، چمبہ 394، بلاسپور 288، سولن 266، ہمیر پور 254، سرمور 196، کلو 113، اونا 100، لاہول سپتی 74اور کنور 58 سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔
پینے کے پانی کی اسکیموں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ چمبا ضلع میں پینے کے پانی کی 548 اسکیمیں متاثر ہوئیں۔ شملہ میں 514، کانگڑا میں 499، منڈی میں 399، کلو میں 309، سرمور میں 267، اونا میں 167، بلاسپور میں 95، ہمیر پور میں 82، سولن میں 53، لاہول اسپیتی میں 47 اور کنور میں 37 پینے کے پانی کو نقصان پہنچا۔
بارش سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ منڈی ضلع کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جس میں 170 ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز (ڈی ٹی آر)خراب ہوئے۔ اونا میں 58، کانگڑا میں 57، چمبہ میں 27، سرمور میں 17، حمیر پورمیں سات، شملہ میں چھ، کلو میں دو اور کنورمیں ایک ڈی ٹی آر کو نقصان پہنچا۔
وزیر ریونیو نے بتایا کہ مختلف اضلاع میں متاثرہ خاندانوں میں امدادی رقم بھی تقسیم کر دی گئی ہے۔ سولن ضلع میں سب سے زیادہ 3.40 کروڑ روپے کی امدادی رقم دی گئی۔ سرمور میں 2.56 کروڑ روپے، اونا میں 2.87 کروڑ روپے، کنور میں 1.38 کروڑ روپے، بلاس پور میں 80.15 لاکھ روپے، کانگڑا میں 38.50 لاکھ روپے، منڈی میں 27.52 لاکھ روپے، شملہ میں 17.13 لاکھ روپے، چمبہ میں 9 لاکھ روپے، لاہول اسپیتی میں تین لاکھ روپے ، کلو میں 1.05 لاکھ اور ہمیر پور میں 38 ہزار روپے کی امدادی رقم فراہم کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
-----------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

