
بالاگھاٹ، 24 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ ضلع ہیڈ کوارٹر میں واقع موتی تالاب پارک میں شدید گرمی سے اتوار کے روز کم از کم 12 چمگادڑوں کی موت ہو گئی۔ اس واقعے نے جنگلی حیات کے شائقین اور ویٹرنری ڈاکٹروں کو فکر مند کر دیا ہے۔ حالانکہ، چمگادڑوں کی موت کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہے۔
ویٹرنری ڈاکٹر، ڈاکٹر گھنشیام پرتے نے بتایا کہ اتوار کے روز شہر کے موتی تالاب پارک میں کچھ چمگادڑ مردہ پائے گئے۔ اطلاع ملنے پر محکمہ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور مردہ چمگادڑوں کو جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چمگادڑوں کی جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا۔
اتنی بڑی تعداد میں چمگادڑوں کی موت کے بعد موتی پارک میں سیر کے لیے آنے والے لوگ سہمے ہوئے ہیں۔ ان میں انفیکشن پھیلنے اور صحت پر اس کے ممکنہ خطرے کا اندیشہ ہے۔
ادھر، جنگلی حیات کے شائق ابھے کوچر نے چمگادڑوں کی موت کی وجہ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کو بتایا ہے۔ ان کے مطابق، ضلع کا درجۂ حرارت 42 سے 43 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا ہے، جس کا اثر جنگلی جانداروں اور پرندوں پر پڑ رہا ہے۔ کوچر نے بتایا کہ بالاگھاٹ کے موتی تالاب میں زیادہ تر چمگادڑ 'فروٹ بیٹس' (پھل کھانے والے چمگادڑ) ہیں، جو عام طور پر اڑتے ہوئے پانی پیتے ہیں۔ درجۂ حرارت بڑھنے سے پانی گرم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے گرم پانی پینے کے سبب چمگادڑوں میں ڈی ہائیڈریشن ہو رہا ہے اور ان کی موت ہو رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل دو سال پہلے ضلع کے برسا علاقے میں بھی بڑی تعداد میں چمگادڑوں کی موت ہوئی تھی۔ کوچر نے چمگادڑوں کی اچانک اموات سے ان کی تعداد میں آ رہی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا ہے کہ چمگادڑوں کی موت کی اصل وجہ ویٹرنری ڈاکٹروں کی تفصیلی جانچ کے بعد ہی سامنے آ سکے گی، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ اس کی وجہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت ہے یا کوئی اور وجہ۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

