
نئی دہلی، 22 اگست (ہ س)۔ مغربی دہلی کے نارائنا وہار میں سڑک کے کنارے برہنہ حالت میں پائے گئے نوجوان کے قتل کا معمہ پولیس نے حل کر لیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ایکو ڈرائیور سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ جانچ میں پتہ چلا کہ گروگرام کے افکو چوک سے مسافر کو لانے والے ڈرائیور کا تقریباً 1000 سے 1500 روپے کے کرایے کی رقم کو لے کر جھگڑا ہوا تھا۔ الزام ہے کہ ڈرائیور نے مسافر کے سر پر اینٹ اور مٹی کےگھڑے جیسی چیز سے حملہ کیا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد لاش کی شناخت چھپانے کے لیے اس کے کپڑے اور جوتے اتار دیے گئے۔
گزشتہ17 اگست کو نارائنا پولیس اسٹیشن کو سی-52، سی -بلاک، نارائنا وہار میں سیوا بھارتی این جی او کی دیوار کے پاس فٹ پاتھ پر ایک نوجوان کی لاش پڑی ہونے کی اطلاع ملی۔ جب پولیس پہنچی تو وہ شخص، جس کی عمر تقریباً 30-35 سال تھی، برہنہ اور لہولہان حالٹ میں پایا گیا۔ اس کے سر کے دائیں جانب گہری چوٹ تھی اور جسم پر کئی دیگر زخم تھے۔ اس کے بائیں ہاتھ پر تیر کے ساتھ دل کا ٹیٹو تھا جس پر آنند اور رینو کے نام لکھے تھے۔ جائے وقوعہ سے خون کے دھبے، اینٹیں اور مٹی کے گھڑے سے مشابہ کسی چیز کے ٹکڑے ملے۔ کرائم ٹیم اور ایف ایس ایل نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ لاش کو اسپتال پہنچایا گیا۔ اس کے بعد نارائنا تھانہ پولیس میں قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ایک پولیس افسر کے مطابق چونکہمعاملہ پوری طرح بلائنڈ ہونے اور متوفی کی شناخت نہیں ہونے کی وجہ سے پولیس نے قریبی سڑکوں اور جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ شروع کردی۔ تقریباً 500 سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا گیا۔ ایک مشکوک ماروتی ایکو کو جائے وقوعہ کے آس پاس سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ابتدائی طور پر نمبر پلیٹ واضح نہیں تھی۔ پولیس نے ایکو کے راستے کا نقشہ بنانے کے لیے مختلف کیمروں سے فوٹیج اکٹھی کیں۔ بعد میں گاڑی کی شناخت ہو گئی۔
پولیس نے گاڑی کے مالک راجندر کمار عرف انو (59) کو گرفتار کیا جو نارائنا کا رہنے والا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ وہ ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا اور گروگرام کے افکو چوک سے متوفی کو اپنی ایکو گاڑی میں اٹھا کر لے گیا تھا۔ راستے میں کرایہ کو لے کر دونوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ الزام ہے کہ جب مسافر نے پیسے دینے سے انکار کیا تو ڈرائیور نے اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور اینٹوں اور مٹی کے گھڑوں سے حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق، واقعہ کے بعد راجندر نے اپنی بیوی کامنی مکھیجا (50) اور بیٹے لکشیہ مکھیجا (28) کو جائے وقوعہ پر بلایا۔ الزام ہے کہ تینوں افراد نے متاثرہ کے کپڑے اور جوتے اتار کر اس کی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔ پولیس نے تینوں کو گرفتار کرلیا۔ لکشیہ کی معلومات سے مقتول کے کپڑے اور جوتے برآمد ہوئے جبکہ کامنی کی معلومات سے جرم میں استعمال ہونے والی ایکو برآمد ہوئی۔
پولیس نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے چار گھنٹے کے اندر مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم ابھی تک متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے ٹیٹو اور دیگر تفصیلات کی بنیاد پر اس کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ پولیس قتل کے تمام واقعات اور تینوں ملزمان کے کردار کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

