Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ماں نے بیٹی کو 2 لاکھ روپے میں بیچا،ملزم پر پانچ ماہ تک عصمت دری کا الزام

ماں نے بیٹی کو 2 لاکھ روپے میں بیچا،ملزم پر پانچ ماہ تک عصمت دری کا الزام

ماں نے بیٹی کو 2 لاکھ روپے میں بیچا،ملزم پر پانچ ماہ تک عصمت دری کا الزامکشن گنج، 8 جولائی (ہ س)۔ ضلع کے بہادر گنج تھانہ علاقے میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنی 12 سالہ بیٹی کو 2 لاکھ روپے میں بیچ دیا۔ معاملے کا انکشاف ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے بدھ کے روز ملزمہ ماں کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔ اس دوران کلیدی ملزم امیت رائے اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری کی جارہی ہے۔ معلومات کے مطابق 9 جنوری کو ملزمہ خاتون نے اپنی بیٹی کو موتیہاری ضلع کے ڈھاکہ تھانہ علاقے کے نرکٹیا گاؤں کے رہنے والے امیت رائے کے حوالے کیا تھا۔ الزام ہے کہ خاتون نے پیسوں کے عوض اپنی نابالغ بیٹی کو بیچ دیا۔ اس کے بعد امیت رائے لڑکی کو اپنے ساتھ موتیہاری لے گیا، جہاں اسے تقریباً پانچ ماہ تک کرائے کے مکان میں یرغمال کر رکھا۔ متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اس دوران ملزم نے اسے جان سے مارنے کی دھمکی دیکر اس کے ساتھ بار بار زیادتی کی۔ مزاحمت کرنے پر اسے مارا پیٹا بھی گیا۔ ایک دن ملزم کا موبائل فون اس کی جیب سے گر گیا۔موقع پاتے ہوئے متاثرہ لڑکی نے اس رات اپنے والد کو فون کیا اور پورے واقعہ سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد والد فوراً موتیہاری پہنچے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ملزم کے گھر جا کر اپنی بیٹی کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے اس کے ساتھ مارپیٹ کر کے بھگا دیا۔ اس کے بعد اس نے مقامی تھانہ میں شکایت درج کرائی۔ پولیس کی مدد سے متاثرہ کو رہا کر کے بحفاظت گھر لایا گیا۔ گھر واپس آنے کے بعد متاثرہ لڑکی اپنے والد کے ساتھ خاتون تھانہ گئی اور تحریری شکایت درج کرائی۔شکایت کی بنیاد پر خاتون تھانہ نے ملزم کی ماں اور امیت رائے سمیت نو لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ معاملہ کی تفتیش کرنے والے ایس آئی سمرن بھارتی نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران خاتون نے اپنی بیٹی کو پیسوں کے عوض فروخت کرنے کا اعتراف کیا۔ صدر اسپتال میں طبی معائنے کے بعد ملزمہ ماں کو جیل بھیج دیا گیا۔ پولیس کے مطابق کلیدی ملزم امیت رائے اور اس کے دیگر ساتھیوں کی تلاش کے لیے مسلسل چھا پہ ماری کی جارہی ہے ۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu