
شملہ، 18 مئی ( ہ س ): ہماچل پردیش میں اب گرمی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ پیر کے دن ریاست کے زیادہ تر علاقوں میں تیز دھوپ رہی، جس کی وجہ سے میدانی علاقوں کے ساتھ ساتھ پہاڑی سیاحتی مقامات پر بھی درجۂ حرارت بڑھ گیا۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دیہرا گوپی پور میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جبکہ کئی شہروں میں رات کا موسم بھی معمول سے زیادہ گرم رہا۔ شملہ، منالی اور کلپا جیسے پہاڑی مقامات پر بھی راتیں گرم محسوس کی گئیں۔
محکمۂ موسمیات کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورے صوبے میں موسم خشک رہا۔ کہیں بھی بارش، اولہ باری یا برف باری نہیں ہوئی۔ سب سے کم درجۂ حرارت کُکومسیری میں 4.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد کیلانگ میں 7.7 ڈگری، تابو میں 9.2 ڈگری، کلپا میں 9.8 ڈگری، سراہن میں 11.9 ڈگری، منالی میں 11.6 ڈگری، کفری میں 11.7 ڈگری اور سیوباغ میں 14 ڈگری درجۂ حرارت درج کیا گیا۔
بھونتر میں کم سے کم درجۂ حرارت 15.4 ڈگری، چمبہ میں 16.7 ڈگری، سولن میں 17.2 ڈگری، برٹھی میں 17.4 ڈگری، پالَم پور میں 18 ڈگری، دھرم شالہ میں 18.1 ڈگری، شملہ میں 18.2 ڈگری، جُبّڑ ہٹّی میں 18.4 ڈگری اور سندر نگر میں 18.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے علاوہ منڈی میں 19.2 ڈگری، کانگڑا میں 19.7 ڈگری، ناہن میں 19.9 ڈگری، اونا میں 20.3 ڈگری، بلاس پور میں 21 ڈگری، پاؤنٹا صاحب اور دیہرا گوپی پور میں 24 ڈگری جبکہ نیری میں 24.3 ڈگری سیلسیس کم سے کم درجۂ حرارت درج کیا گیا۔
دارالحکومت شملہ، منالی اور کلپا جیسے مشہور پہاڑی مقامات کی راتیں بھی اب گرم ہونے لگی ہیں۔ ان تینوں جگہوں پر رات کا درجۂ حرارت معمول سے تقریباً دو ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ شملہ میں درجۂ حرارت معمول سے 2.7 ڈگری، منالی میں 2 ڈگری اور کلپا میں 2.7 ڈگری زیادہ رہا۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق 19 مئی کو ریاست کے کچھ علاقوں میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ تر علاقوں میں موسم صاف رہے گا۔ 20 مئی کو پورے صوبے میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے اور گرمی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس کے بعد 21 مئی سے مغربی ہوائیں فعال ہونے والی ہیں۔ اس کے اثر سے 21 سے 24 مئی تک ریاست کے کئی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی امید ہے۔
محکمۂ موسمیات نے 21 اور 22 مئی کے لیے چمبہ، کانگڑا اور کُلّو اضلاع میں ایلو الرٹ جاری کیا ہے۔ ان علاقوں میں 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں اور آسمانی بجلی گرنے کا بھی خدشہ ہے۔
محکمہ کا کہنا ہے کہ بارش اور بادلوں کی سرگرمی بڑھنے سے درجۂ حرارت میں کمی آ سکتی ہے اور لوگوں کو گرمی سے کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد

