
لاتور ، 8 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ضلع لاتور کے چاکور تعلقہ میں واقع رچناواڑی کے پنیہ شلوک اہلیہ دیوی ہولکر ودیالیہ کی اسکول بس بدھ کی صبح مہانڈول روڈ پر خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ بس سڑک کے کنارے موجود گڑھے میں الٹ جانے سے اس میں سوار 23 طلبہ زخمی ہو گئے۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اسکول انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اسکول کا مستقل بس ڈرائیور واری یاترا پر گیا ہوا تھا، جس کے باعث اس کی جگہ ایک دوسرے ڈرائیور کو تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسکول انتظامیہ کو اس تبدیلی کی مکمل اطلاع تھی یا نہیں، اور آیا نئے ڈرائیور کی اہلیت، تجربے اور دستاویزات کی باقاعدہ جانچ کی گئی تھی یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح جب بس نمبر ایم ایچ 12 پی کیو 5120 طلبہ کو لے کر اسکول جا رہی تھی تو مہانڈول روڈ پر ڈرائیور مبینہ طور پر موبائل فون پر بات کر رہا تھا۔ اسی دوران وہ بس سے کنٹرول کھو بیٹھااور گاڑی سڑک کے کنارے موجود گڑھے میں پلٹ گئی۔ حادثے کے فوراً بعد بس میں سوار طلبہ میں خوف و ہراس پھیل گیا
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی شہری فوری طور پر موقع پر پہنچے اور بس میں پھنسے طلبہ کو باہر نکال کر امدادی کارروائی شروع کی۔ بعد ازاں زخمی ہونے والے تمام 23 طلبہ کو ایمبولینس کے ذریعے چاکور کے دیہی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ دیگر طلبہ بھی شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہوئے۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر والدین بڑی تعداد میں اسپتال اور جائے حادثہ پہنچ گئے۔
اس واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی مکمل تحقیقات کی جائیں کہ آیا طلبہ کی حفاظت کے لیے بس میں کوئی استاد یا مجاز ملازم موجود تھا یا نہیں، ڈرائیور کی اہلیت اور دستاویزات کی جانچ کی گئی تھی یا نہیں، اور طلبہ کی نقل و حمل سے متعلق تمام حفاظتی ضابطوں پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں
اگرچہ بروقت امدادی کارروائی کی بدولت بڑا سانحہ ٹل گیا، تاہم اس حادثے نے ایک بار پھر اسکولی ٹرانسپورٹ نظام میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ والدین اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار ڈرائیور، متعلقہ افسران اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں۔ ادھر پولیس انسپکٹر بالاجی بھنڈے نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور بتایا کہ حادثے کی اصل وجہ اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے

