


ایم پی ہائی کورٹ نے لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کے لیے ''کورٹ روم لائیو آڈیو-ویژول اسٹریمنگ سسٹم'' اور ''ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم'' لانچ کیا
بھوپال، 16 مئی (ہ س)۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ امرکنٹک سے نکلنے والی ماں نرمدا، چھوٹی چھوٹی ندیوں کے ملنے سے ایک وسیع شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح نئی ٹیکنالوجی کی لہروں کے ذریعے کورٹ، پولیس، جیل، فارنسک اور میڈیکو لیگل کی شاخیں یونائیٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں یکجا ہو کر عام آدمی کے لیے انصاف کے حصول میں معاون ثابت ہوں گی۔ عام شہری کو فوری طور پر انصاف فراہم کرنے کے لیے عدلیہ کو اسپتالوں کی طرح 24X7 کام کرنا ہوگا۔
جسٹس سوریا کانت ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے جبل پور میں منعقدہ ''فریگمنٹیشن آف فیوژن: ایمپاورنگ جسٹس وایا-یونائیٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم انٹیگریشن'' پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے شہریوں کے لیے ڈیجیٹل خدمات تیار کر کے عدالتی عمل کو تیز اور آسان بنانا قابلِ ستائش اور قابلِ تقلید ہے۔ ہائی کورٹ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے قیدیوں کو بروقت رہا کرنے، ارجنٹ ہیرنگ اور عدالتی احکامات کی ڈیجیٹلائزیشن جیسی متعدد سہولیات میسر آئیں گی۔ ملک کے چیف جسٹس، جسٹس سوریا کانت نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ملک کی تمام عدالتوں میں لاگو کیا جائے۔
جسٹس سوریا کانت نے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، مرکزی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال اور مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سنجیو سچدیوا کے ساتھ شمع روشن کر کے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے جج صاحبان، چیف سکریٹری انوراگ جین اور ماہرینِ قانون موجود تھے۔ اس تقریب میں ایم پی ہائی کورٹ کی جانب سے لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کے لیے ''کورٹ روم لائیو آڈیو-ویژول اسٹریمنگ سسٹم'' اور ''ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم'' پہلی بار لانچ کیا گیا۔
جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عدالتی عمل میں اے آئی کے صحیح استعمال کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی نے حیرت انگیز کام کیا ہے۔ جلد ہی کمیٹی کی تجاویز کو ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ ہندوستان قدیم دور سے ہی جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں پیش پیش رہا ہے۔ کووڈ وبا کے دور میں ہندوستانی عدالتی نظام نے نئی ٹیکنالوجی کو اپنایا اور اس مشکل وقت میں عدلیہ نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔ کووڈ کے دوران بھی عدالتوں میں کام بند نہیں ہوا، جس کے لیے دنیا بھر کی عدلیہ نے ہندوستانی نظام کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عام آدمی کو تیزی سے انصاف دلوانے میں اے آئی اہم کردار ادا کرے گی۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عدالتی نظام کے ساتھ جوڑنے سے کورٹ کا وقت بچے گا، عدالتی عمل میں تیزی آئے گی اور جسٹس ڈیلیوری سسٹم زیادہ شفاف بنے گا۔ دستور کی روح کے مطابق تمام شہریوں کو فوری، سستا اور بغیر کسی تفریق کے انصاف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ مدھیہ پردیش ثقافتی اور جغرافیائی طور پر تنوع سے بھرپور ریاست ہے۔ دیہی علاقوں کے شہریوں کو عدالتی نظام کی آن لائن سہولیات کا استعمال سکھانا ہوگا۔ اسے لاگو کرنے میں زبان اور انٹرنیٹ کی دستیابی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پیرا لیگل والنٹیرز کی مدد سے لوگوں کو مقامی اور سادہ زبان میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے صحیح استعمال کے حوالے سے بیدار کیا جائے۔
ایم پی کے چیف جسٹس، جسٹس سنجیو سچدیوا نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ آج ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کر رہا ہے۔ اب فریادیوں کو عدالت کے فیصلوں کی کاپی کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ سی جے آئی جسٹس سوریا کانت کی رہنمائی میں تیار ہونے والا ہائی کورٹ کا یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم شہریوں کی زندگی کو آسان بنائے گا۔ آج ہم ''فریگمنٹیشن آف فیوژن'' کے ذریعے ایک ایسے عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں معلومات کا بہاو تیزی اور شفافیت کے ساتھ ہوگا۔ مدھیہ پردیش لیگل اتھارٹی نے سب کے لیے عدالتی عمل کو آسان بنانے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اب عام لوگوں کے ساتھ پولیس کے لیے بھی ای-سمن جاری کرنا آسان ہوا ہے اور ضمانت کی درخواستوں کے تصفیے میں بھی تیزی آئی ہے۔ اب رئیل ٹائم میں معلومات شیئر کی جا سکیں گی۔ ہائی کورٹ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ضمانت اور کیس سے متعلق فیصلوں کی ای-کاپی دستیاب ہوگی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس این کوٹیشور سنگھ نے کہا کہ فاونٹین پین سے لکھا گیا ہمارا دستور اب اے آئی کے دور میں پہنچ چکا ہے۔ کسی قیدی کی رہائی کا حکم پہنچنے میں تاخیر محض کوئی تکنیکی خرابی نہیں ہے، بلکہ اس تاخیر کی وجہ سے رہا ہونے والے شخص کو ایک اور رات جیل میں گزارنی پڑتی ہے۔ ایک لاپتہ فارنسک رپورٹ کسی فریادی کے لیے عدالتی عمل میں تاخیر کا سبب بن جاتی ہے۔ اب کورٹ کے حکم کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کرنے کے لیے کسی کو میلوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی یہ جدید پہل استغاثہ، پولیس اور شہریوں کے لیے عدالتی عمل کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ملک کے عدالتی نظام میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہماری عدلیہ شہری حقوق کے تئیں زیادہ ذمہ دار ہوگی۔ ہم سب کو مل کر عدالتی نظام کے چیلنجوں کو ختم کرنے کی سمت میں کوششیں کرنی ہوں گی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس آلوک ارادھے نے کہا کہ آج مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے عدالتی عمل کو سادہ بنانے کی سمت میں ایک نیا باب شروع کیا ہے۔ عدالتی عمل میں تاخیر ایک آئینی تشویش کا موضوع رہا ہے۔ عدلیہ- کورٹ، پولیس، جیل، فارنسک اور میڈیکو لیگل سروسز کے ایک ساتھ آنے سے یہ تشویش ختم ہو جائے گی۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جدید پہل کے ذریعے نئی سمت دکھائی ہے۔ انٹیگریٹڈ ڈیجیٹل ایکو سسٹم سے ڈیٹا اور معلومات کا تبادلہ آسانی سے ممکن ہوا ہے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ایڈمنسٹریٹو جج جسٹس ویویک روسیا نے تقریب میں موجود تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں رکنِ پارلیمنٹ آشیش دوبے، جبل پور کے میئر جگت بہادر انو، ایڈوکیٹ جنرل پرشانت سنگھ، جج صاحبان، جوڈیشل اتھارٹی سے وابستہ زیرِ تربیت اہلکار، پولیس افسران اور بڑی تعداد میں وکلاء موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن

